Monday, March 12, 2012

Zavia 2 By Ashfaq Ahmad


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا "آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟" اس نے کہا جہاں تم کھڑی ہو یہ سمندر ہے۔ اس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی۔ وہ اس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھرو، ٹھرو، میری بات سن کے جائو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی۔ بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدو جہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں، دیکھنے کی اور straight آنکھوں کے ساتھ دیکھنے ضرورت ہے۔ مسئلے کے اندر اترنے کی ضرورت ہے۔ جب تک مسئلے کے اندر اتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بے قرار رہوگے اور تمیں سمندر نہیں ملے گا۔ ۔ ۔

از اشفاق احمد۔ زاویہ۲۔ ص۔ ۱۵ 

Nashukri Ka Aarza , Zavia 3 By Ashfaq Ahmad


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

کچھ عرصے سے میرے دل پر ایک عجیب طرح کا بار ہے جو کم ہونے کا نام نہیں لے رہا - اس کے لیے میں نے بڑی تدبیریں کی ، خیال کو ذہن سے جھٹکا لیکن وہ خیال یا آپ اسے مرض کہ لیں ، ایسا ہے کہ دامن گیر ہی ہوتا چلا جا رہا ہے - میرا وہ غم اور دکھ یہ ہی کہ ہم ناشکرے کیوں ہوتے جا رہے ہیں - 
جس کے پاس گاڑی ہے ، وہ بڑی گاڑی یا ہیلی کاپٹر کی تمنا میں پریشان ہے - سائیکل والا سکوٹر کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے - غرض کہ کچی سڑک پر چلنے والا پکی سڑک پر چلنی کی خواہش میں آہیں بھرتا ہے - 
آپ کی بات نہیں کرتا مجھے ہی لے لیں ، میں نہ گرمی سے مطمئن ہوتا ہوں نہ سردی مجھے بھلی لگتی ہے - گرمی ہے تو ہر وقت کہا جا رہا ہوتا ہے کہ جی اس بار تو گرمی نے کڑاکے نکال دیے - پریشان کر رکھا ہے - سردی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اتنی سخت سردی میں غریبوں کا کیا حال ہوا ہوگا - بڑی جان لیوا ہے - اس سے تو گرمی ہی بھلی -

از اشفاق احمد زاویہ ٣ نا شکری کا عارضہ صفحہ ١٢ 

Nashukri Ka Aarza By Ashfaq Ahmad


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

اگر بس میں آپ کو کوئی سیٹ دے تو آپ بجائے یہ سوچنے کے کہ ہو سکتا ہے اس شخص نے میری شخصیت سے مرعوب ہو کر سیٹ چھوڑ دی ہے ، یا اس وجہ سے راستہ چھوڑ دیا ہے کہ یہ اشفاق صاحب بہت بڑے دانشور اور رائٹر ہیں - یہ سوچ کر خیال کریں کہ یہ اس کی مہربانی اور بندہ نوازی ہے ، کہ اس شخص نے سیٹ چھوڑ دی یا راستہ دے دیا اور اس پر شکریہ ادا کریں -
پیارے بچو ! اگر یہ روایت ڈال دی جائے ، تو نہ صرف محبّت کے سلسلے پروان چڑھیں بلکہ کئی ایک مسائل ختم ہو جائیں - 

از اشفاق احمد زاویہ ٣ ناشکری کا عارضہ صفحہ ١٤ 

Dosti aur Tash ki Game By Ashfaq Ahmad


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

ہمارے دو ٹیچر ماسٹر حشمت علی اور ماسٹر قطب الدین ہوا کرتے تھے - ساتھ رہنا اکٹھے کھانا ، ایک دوسرے کے گھر کے ساتھ گھر ، سیر کو اکٹھے جانا ، اکٹھے اسکول آنا - کبھی ہم نے انھیں الگ الگ نہیں دیکھا تھا - ان کے درمیان اتنی گہری دوستی تھی کہ آپ جتنا بھی اس کو ذہن میں تصور کریں ،وہ کم ہے - 
پھر اچانک یہ ہوا کہ ماسٹر حشمت علی کی بدلی ہو گئی - اور وہ ہمارے ضلعے کی کسی اور تحصیل میں چلے گئے - دونوں دوستوں کے درمیان اس تبدیلی سے جو خلیج پیدا ہوئی ، وہ تو ہوئی ، ہم جو طالب علم تھے یا جو دوسرا اسٹاف تھا ، ان کے لئے بھی بہت تکلیف دہ صورتحال تھی -
میں نے ماسٹر قطب الدین سے کہا ، آپ کی حشمت علی صاحب س بڑی دوستی تھی ؟ کہنے لگے ، ہاں ٹھیک ہے - 
میں نے کہا ان کے جانے سے آپ کی طبیعت پر بوجھ پڑا ؟ کہنے لگے ہاں پڑا ہے ، مگر زیادہ نہیں - 
میں نے کہا یہ آپ حیران کن بات کرتے ہیں - وہ تو آپ کے بہت عزیز دوست تھے ، قریب ترین تھے -
کہنے لگے لیکن آپ اس کو ایک اعلیٰ درجے کی معیاری دوستی قرار نہیں دے سکتے - بیشک ہمارے معمولات اکٹھے تھے - اکٹھے کھاتے پیتے تھے - اور کوئی لمحہ بھی ایک دوسرے کے بغیر نہیں گزرا لیکن یہ دوستی کی نشانی نہیں ہے - دوستی کی نشانی یہ ہے کہ جب تک آدمی اکٹھے بیٹھ کر روئے نہ ، اس وقت تک دوستی نہیں ہوتی ، اور ہم کبی اکٹھے بیٹھ کر روئے نہیں تھے - اس لئے آپ نہیں کہ سکتے کہ ہم دوست تھے - 

از اشفاق احمد زاویہ ١ دوستی اور تاش کی گیم صفحہ ٢٧٩ 

Khuda say zyada jaraseemo ka khof.... By Ashfaq Ahmad


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

صبح کا وقت بڑا سہانا ہوتا ہے ۔ صبح کا وہ وقت جب پو پھوٹ رہی ہوتی ہے۔ چڑیاںچہچہا رہی ہوتی ہیں لیکن ایک وہ ہی وقت ہوتا ہے جب سورج کی روشنی اپنی پوری لمبا ئی کے ساتھ زمین کو چھونے لگتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہماری یاد میں بھولے بسرے واقعات بڑی وضاحت اور شد و مد کے ساتھ ابھرنے لگتے ہیں ۔ باوجود بڑی کوشش کے میں آج تک نہیں جان سکا ہوں کہ ان لمبی لمنی شعا عوں اور کرنوں کا زمین پر ایسا اثر کیوں ہوتا ہے ۔ یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے برے سے برے دشمن کو بھی معاف کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے ۔آج کل ہمارے ہاں ویسے معاف کرنے پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے اور معافی کے عمل کو بجائے اپنی بڑائی یا اعلی ظرفی کے کمزوری سمجھا جانے لگا ہے اور بدقسمتی سے یہ رجحان ابھی کچھ سالوں میں زیادہ ہو گیا ہے۔ پہلے شاید اتنا نہیں تھا ، وجود تو ہو گا ، اس سے تو انکار نہیں لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بہت کم ہو گیا ہے۔

خدا سے زیادہ جراثیموںکا خوف ۔۔۔۔زاویہ 3 صفحہ 224 

Wednesday, March 7, 2012

از بانو قدسیہ راہ رواں صفحہ ٤٩ (Rah-e-Rawan - Az Bano Qudsia )


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

اب مجھے پتا چلتا ہے کہ ان کا ایک مسئلہ تھا - وہ اپنے کسی ہم جماعت کو احساس کمتری میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے - انھیں معلوم تھا کہ احساس کمتری میں مبتلا انسان ناکارہ ہوجاتا ہے - وہ دہشت گردوں سے جا ملے یا خود کش بم کے سہارے اپنا آپ ختم کر ڈالے ، ذہنی مریض بن کا کسی ہسپتال جا پہنچے یا کسی قتل کا مرتکب ہو جائے ، بہر کیف زندگی اس کے لئے معنی کھو دیتی ہے - 

از بانو قدسیہ راہ رواں صفحہ ٤٩