All about Pakistan,Islam,Quran and Hadith,Urdu Poetry,Cricket News,Sports News,Urdu Columns,International News,Pakistan News,Islamic Byan,Video clips
Tuesday, April 3, 2012
Aik hoobsoorat qom ki hoobsoorat kahani. Aik sacha waqia
السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة
Aik hoobsoorat qom ki hoobsoorat kahani. Aik sacha waqia
ایک زندہ اور خوبصورت قوم کی ایک خوبصورت کہانی ایک سچا واقعہ تاریخ سولہ مارچ 2011 شام کا وقت ھے مقام فوکو شیما جاپان آج زلزلے کو پانچ دن گزر چکے ہیں . ایک مقامی سکول میں ایک چیئرٹی آرگنائزیشن پناہ گزینوں میں خوراک تقسیم کر رہی ہے. ایک بہت لمبی قطار میں لوگ اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہیں. قطار کے آخر پر ایک نو سال کا ایک ایسا معصوم بچہ بھی کھڑا ہے جس کے ماں باپ کو سونامی کا ایک ظالم ریلہ اس کی آنکھوں کے سامنے بہا کر لے گیا تھا وہ اس وقت تیسری منزل پر موجود تھا اس لئے بچ گیا اس سیلاب میں اس کے تمام رشتہ دار بہہ گئے تھے . بچہ قطار میں کھڑا سردی سے آہستہ آہستہ کانپ رہا ہے اس نے صرف ایک نیکر اور ٹی شرٹ پہنی ہوئی ہے اور شام کے اترنے کے ساتھ سردی بھی بڑھتی جا رہی ہے. ایک پولیس مین کی نظر اس پر پڑتی ہے وہ اس کے قریب جاتا ہے اپنی جیکٹ اتار کر اس کو پہنا دیتا ہے پھر اپنے حصے کی خوراک کا پیکٹ بچے کو دے کر کہتا ہے بیٹا قطار بہت لمبی ہے شاید آپ کی باری آنے سے پہلے خوراک کا ذخیرہ ختم ھو جائے. آپ میرے حصے کی خوراک لو اور جا کر آرام کرو سردی زیادہ ھو رہی ہے بیمار ھو جاؤ گے . بچے نے پیکٹ لیا اور خاموشی سے جا کر خوراک کے ڈھیر پر رکھ آیا اور پھر قطار میں کھڑا ہوگیا. پولیس والے نے پوچھا بیٹا آپ نے ایسا کیوں کیا یہ خوراک تو میں نے آپ کے کھانے کیلئے دی تھی . نو سال کا بچہ بولا : سر آپ کا شکریہ لیکن یہاں قطار میں مجھ سے بھی کہیں زیادہ بھوکے لوگ موجود ہیں. اگر ان کی ضرورت سے زیادہ کھانا بچ گیا تو میں بھی کھا لوں گا . ورنہ ایک رات کی بھوک تو برداشت کر ہی لوں گا. آ پ کا کیا خیال ہے شاید صرف ایک بچے کے والدین اچھے تھے جنہوں نے اس کی اتنی اچھی تربیت کی تھی ؟ نہیں. . . سونامی کے چھ ماہ بعد جب عام جاپانی شہریوں کو ملبے کے ڈھیروں سے سات کروڑ اسی لاکھ ڈالر کے کرنسی نوٹ اور قیمتی اشیا ملیں تو انہوں نے فورآ پولیس کو اطلاع دی. اسی طرح ایسی چھ ھزار تجوریاں ملیں جن میں 30 ملین ڈالر کی قیمتی اشیا تھیں وہ بھی پولیس کے حوالے کر دیں اور پولیس نے یہ تمام اشیا اور رقوم بچ جانے والے افراد کو ڈھونڈ کر ان تک پہنچائیں. ایک اور چھوٹا سا واقعہ سناتا ہوں اپنے پیارے ملک پاکستان میں ایک خوفناک بس ایکسیڈنٹ ہوتا ہے کچھ فریبی آبادیوں کے لوگ وہاں پہنچتے ہیں وہ لوگ ان کی جانیں بچانے کیلئے کچھ نہیں کرتے بلکہ زخمیوں اور فوت ھو جانے والوں کا قیمتی سامان اور رقوم سمیٹ کر چل دیتے ہیں. ایک زخمی خاتون ان کو آواز دے کر کہتی ھے کہ میرا قیمتی زیور لے لو مگر میرے معصوم زخمی بیٹے کی جان بچا لو . مجھے اور کچھ نہیں کہنا اقبال کا ایک شعر ھے. رحمتیں تیری ہیں اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ھے تو بیچارے مسلمانوں پر آپ کے خیال میں رحمتوں کا حقدار کون ھے اور برق سے جلائے جانے کا حقدار کون؟
Aik hoobsoorat qom ki hoobsoorat kahani. Aik sacha waqia
Monday, April 2, 2012
Hamoshi Ki Jazbiat
السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة
خاموشی کی جاذبیت
کچھ لوگ بہت کم بولتے ہیں اور محفلوں یا بیٹھکوں میں انکی آواز خال خال ہی سنائی دیتی ہے۔ اگر ان لوگوں کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو محض ان کے سر ہلتے ہوئے نظر آئیں گے یا پھر انہماک اور توجہ سے بھرپور آنکھیں یا پھر چہرے پر آئی ہوئی مسکراہٹ اور بدلتے ہوئے تأثرات۔۔۔ بات چیت کریں گے تو کبھی کبھار اور وہ بھی مختصر۔ ان سب باتوں کے باوجود بھی ان لوگوں کو پسند بھی کیا جاتا ہے اور یہ لوگ محفل ...کی جان بھی سمجھے جاتے ہیں۔
معاشرے میں نمایاں اثر رکھنے والے اور کامیاب ترین لوگ ہمیشہ اچھے سامع اور دوسروں کی باتوں کو غور سے سننے والے لوگ رہے ہیں۔ زیادہ باتیں کرنا کبھی بھی کامیاب شخصیت کی علامت نہیں رہا اور نا ہی زیادہ باتیں کرنے والے لوگ با اثر ہوتے ہیں۔ بلکہ زیادہ بولنے والے کی گفتگو کے اختتام پر اُسکی کی ہوئی باتوں پر دلیلیں اور پھر وضاحتیں دینے کا کام شروع ہو جایا کرتا ہے۔
ماہرین سماجی نفسیات کہتے ہیں کہ لوگوں کو محبت اور غور سے سننے والے اصل میں لوگوں کے دلوں پر حکومت کرنے کا راز جاننے والے لوگ ہوا کرتے ہیں اور لوگوں سے اُنکے تعلقات ہمیشہ ثمر آور ہوا کرتے ہیں۔
ایک اچھا سامع ہونا بھی مہارت کا کام ہے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بولنے کیلئے تو ایک زبان مگر سننے کیلئے دو کان بنائے ہیں تاکہ سُنا زیادہ اور بولا کم جائے۔ اگر آپ سننے کی عادت ڈالنے کا ارادہ کر ہی لیں تو یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ چاہے بولنے والے کی بات پر آ پکو اعتراض ہی کیوں نا ہوا کرے اُسے بات پوری کرنے کا موقع دیا کریں۔
Ashfaq Ahmad.. zabani Da'away aur Zameer Ki Aawaz
السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة
اسلام کی بر تری کا تذکرہ کرتے ہوئے ان بڑے لوگوں کی مثالیں ہم دیتے ہیں کہ جن کے قریب تک پہنچنے کا ہم میں یارا نہیں ہوتا ، ہمت نہیں ہوتی ، اور انھیں ہم کسی بھی صورت تقابل میں نہیں لا سکتے -
جب الله یہ کہتا ہے اور وضاحت سے کہتا ہے " تم ایسا کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو "
یہ بڑی غور طلب بات ہے - اس میں یقینن تھوڑی سی بے رونقی ضرور آئے گی ، میں جو سمجھ سکا ہوں کہ یہ ہماری معاشرتی کمزوری ہے کہ ہم لوگ ساری کی ساری اعلیٰ درجے کی مثالیں دے کر اسے اپنی زندگی پر حاوی نہیں کرتے -
از اشفاق احمد زاویہ ١ زبانی دعوے اور ضمیر کی آواز صفحہ ١٧٤
Subscribe to:
Posts (Atom)




