Tuesday, February 19, 2013

اشفاق احمد حیرت کدہ صفحہ 58

ثروت : حضور ! خاکم بدہن  ۔ ۔ ۔ ۔ ظالم کی رسی کیوں دراز ہے اس کو غفورالرحیم  سے  ظلم کرنے کی استعداد اور مہلت اس قدر کیوں ملتی ہے ؟  

شاہ :  اس کی دو وجوہات ہیں ثروت بیگ ۔ ایک وجہ تو یہ کہ اس پر لوٹ آنے کی مہلت خدائے بزرگ و برتر کم نہیں کرنا چاہتا ۔  کبھی تم نے اس ماں کو دیکھا ہے ثروت بیگ جو بچے کو مکتب میں لاتی ہے ۔ بچہ بھاگتا ہے ، بدکتا ہے ، چوری نکل جاتا ہے مکتب سے ۔ ماں لالچ دیتی ہے کبھی سکے کا ۔ کبھی کھانے پینے کی چیزوں کا ۔  کبھی کبھی مکتب میں لانے کے لیے ظلم کا بھی لالچ دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ دنیاوی آدمی کو بس اسی چیز کا شوق ہوتا ہے ۔ 

ثروت : اور دوسری وجہ شاہ علم و دین ۔ 

شاہ :  دوسری وجہ اسباب کی ہے ظالم آدمی در اصل ایک آلہ ہے اسباب کے ہاتھ میں ۔ وہ اللہ کے بندوں کو آزمانے کا سبب بنتا ہے ثروت بیگ ۔ اس کے بغیر صابر آدمی کی آزمائش کیوں کر ہوتی ۔ 

 

اشفاق احمد  حیرت کدہ  صفحہ 58

Aaj Ki Baat


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة



Daily Quran and Hadith


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة





Saturday, February 16, 2013

Daily Quran And Hadith


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة





اشفاق احمد زاویہ 2 چھوٹا کام صفحہ 26

رزق کا بندوبست کسی نہ کسی طور اللہ تعالیٰ کرتا ہے ، لیکن میری پسند کے رزق کا بندوبست نہیں کرتا ۔ میں چاہتا ہوں کہ میری پسند کے رزق کا انتظام ہونا چاہیے ۔ ہم اللہ کے لاڈلے تو ہیں پر اتنے بھی نہیں جتنا  ہم خود کو سمجھتے ہیں ۔
ہمارے بابا جی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی آپ سے سردیوں میں رضائی مانگے تو اس کے لیے رضائی کا بندوبست ضرور کریں ۔  کیونکہ اسے ضرورت ہوگی ۔ لیکن اگر وہ یہ شرط عائد کرے کہ مجھے میری پسند کی رضائی دو ، تو پھر اس کو باہر نکال دو ۔ کیونکہ اس طرح اس کی ضرورت مختلف قسم کی ہو جائے گی ۔

اشفاق احمد زاویہ  2  چھوٹا کام  صفحہ 26

اشفاق احمد زاویہ 3 لچھے والا صفحہ 31

جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو ایک ادھیڑ عمر کا شخص جس کا رنگ گندمی اور ماتھے پر بڑھاپے اور پریشانی سے لکیریں پڑہی ہوئیں تھیں ۔ وہ اسکول میں لچھے بیچنے آیا کرتا تھا ۔ اس کے بنائے ہوئے رنگ برنگ  کےلچھے ہم سب کے من پسند تھے ۔ وہ ہمیں ان چینی کے بنے فومی لچھوں کے طوطے ، بطخیں اور طرح طرح کے جانور بھی بنا کر دیا کرتا تھا ۔ ہم اس سے آنے آنے کے لچھے کھاتے اور وہ بڑے ہی پیار سے ہم سے پیش آتا تھا ۔  مجھے اب بھی اس کی بات یاد ہے اور جب ایک سپر پاور نے افغانستان پر حملہ کیا تو بڑی شدت سے یاد آئی حالانکہ میں اسے کب کا بھول چکا تھا ۔ ہم سب بچوں سے وہ لچھے والا کہنے لگا ۔  
" کاکا تسیں وڈے ہو کے کیہہ بنو گے  ۔ "
ہم سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ " ہم بڑے افسر بنیں گے " ۔
کسی بچے نے کہا میں " فوجی بنوں گا " ۔  
 وہ ہم سے پیار کرتے ہوئے بولا " پتر جو وی بنو ، بندے مارنے والے نہ بننا ۔  بندے مارن نالوں بہتر اے تسی لچھے ویچن لگ پینا  پر بندے مارن والے کدی نہ بننا " ۔

اشفاق احمد زاویہ 3  لچھے والا  صفحہ 31