Saturday, August 31, 2013

Ashfaq Ahmed In Baba Sahba : Shah Mansoor


جب شاہ منصور کو سولی پر کھینچ دیا - جسم کو جلا دیا - خاکستر کو دریا ( دجلہ ) میں بہا دیا تو دریا جوش میں آگیا لوگوں نے امام محمد کو خبر دی امام صاحب دجلہ کے کنارے آئے اور کہا ! منصور ہماری بات غور سے سن - ہم جانتے ہیں کہ تو طریقت میں سچا تھا ، لیکن ہمارا قلم بھی اگر خلاف شرع چلا ہو تو شہر غارت کر ورنہ تجھ سے کچھ نہ ہو سکے گا اسی وقت دریا کا جوش ٹھنڈا ہوگیا ۔

Ashfaq Ahmad In Baba Sahba : Mueter


مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ اسلام کا مطلب سلامتی ہے جو شخص اسلام قبول کر لیتا ہے ، وہ سلامتی میں داخل ہو جاتا ہے اور جو شخص سلامتی میں داخل ہو جاتا ہے ، وہ سلامتی عطا کرتا ہے - اس کے مخالف عمل نہیں کرتا جس طرح ایک معطر آدمی اپنے گرد و پیش کو عطر بیز کر دیتا ہے - اسی طرح ایک مسلمان اپنے گرد و پیش کو خیر اور سلامتی سے لبریز کر دیتا ہے اگر کسی وجہ سے مجھ سے اپنے ماحول کو اور اپنے گرد و پیش کو سلامتی اور خیر عطا نہیں ہو رہی تو مجھے رک کر سوچنا پڑیگا کہ میں اسلام کے اندر ٹھیک سے داخل ہوں کہ نہیں ۔

Ashfaq Ahmad In Baba Sahba : Kamal


انسان کو جس چیز میں کمال حاصل ہوتا ہے - اس پر مرتا ہے ۔ چنانچہ دھنتر دید کو سانپ پکڑنے میں کمال تھا - اس کو سانپ نے کاٹا اور مر گیا۔ ارسطو سل کی بیماری میں مرا ۔ افلاطون فالج میں ۔ لقمان سرسام میں اور جالینوس دستوں کے مرض میں۔ حالانکہ انہی بیماریوں کے علاج میں کمال رکھتے تھے ۔ اسی طرح جس کو جس سے محبّت ہوتی ہے ، اسی کے خیال میں جان دیتا ہے ۔ قارون مال کی محبّت میں مرا ۔ مجنوں لیلیٰ کی محبّت میں ۔ اسی طرح طالب خدا کو خدا کی طلبی کی بیماری ہے وہ اسی میں فنا ہو جاتا ہے ۔

Ashfaq Ahmad In Baba Sahba : Hub-e-Jaa


بابا جی نے فرمایا کہ جب الله کسی بندے کیساتھ خیر چاہتے ہیں تو ایسے اسباب غیب سے پیدا فرما دیتے ہیں ۔ جس سے اس کے امراض نفسانیہ مثلاً " حب جاہ " کا علاج ہوتا ہے مثلاً اس پر کوئی مرض مسلط ہو جاتا ہے۔ یا کوئی دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے جو اسے کوئی بدنامی کی ایذا پہنچاتا ہےاس بدنامی سے وہ شخص رسوا ہوتا ہے۔ اول اول تو یہ نفس کو نہایت نا خوشگوار گزرتا ہے۔ مگر جب وہ صبر و رضا اختیار کر لیتا ہے تو پھر اس میں ایسی قوت تحمل پیداہو جاتی ہے کہ بدنامی کو بڑے شوق سے برداشت کرنے لگتا ہے۔ پھر الله تعالیٰ اس کو قبول عام اور عزت نصیب فرماتے ہیں جس میں اس کو ناز نہیں ہوتا اب گویا ، جاہ عظیم میسر ہوتی ہے اور جاہ پسندی فنا ہو جاتی ہے ۔

Ashfaq Ahmad in Baba Sahba


بابا جی نے فرمایا کہ جب الله کسی بندے کیساتھ خیر چاہتے ہیں تو ایسے اسباب غیب سے پیدا فرما دیتے ہیں ۔ جس سے اس کے امراض نفسانیہ مثلاً " حب جاہ " کا علاج ہوتا ہے مثلاً اس پر کوئی مرض مسلط ہو جاتا ہے۔ یا کوئی دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے جو اسے کوئی بدنامی کی ایذا پہنچاتا ہےاس بدنامی سے وہ شخص رسوا ہوتا ہے۔ اول اول تو یہ نفس کو نہایت نا خوشگوار گزرتا ہے۔ مگر جب وہ صبر و رضا اختیار کر لیتا ہے تو پھر اس میں ایسی قوت تحمل پیداہو جاتی ہے کہ بدنامی کو بڑے شوق سے برداشت کرنے لگتا ہے۔ پھر الله تعالیٰ اس کو قبول عام اور عزت نصیب فرماتے ہیں جس میں اس کو ناز نہیں ہوتا اب گویا ، جاہ عظیم میسر ہوتی ہے اور جاہ پسندی فنا ہو جاتی ہے ۔

Basilahiat Qom – Javed Chaudhry

javed Chaudhry

Monday, August 26, 2013

In Aankhon Ki Masti Kay...

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں 
ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں 

اِک تم ہی نہیں تنہا الفت میں میری رسوا 
اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں 

اِک صرف ہمی مے کوآنکھوں سے پیلاتے ہیں 
کہنے کو تو دنیا میں میخانے ہزاروں ہیں 

اس شمعِ فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو
اس شمعِ فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں