All about Pakistan,Islam,Quran and Hadith,Urdu Poetry,Cricket News,Sports News,Urdu Columns,International News,Pakistan News,Islamic Byan,Video clips
Monday, November 11, 2013
Ashfaq Ahmad In Zavia 3 : Rovio Ki Tabdeeli
Sunday, November 10, 2013
Friday, November 8, 2013
Thursday, November 7, 2013
Munafe Ka Soda
سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہما کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیئے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛ میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسائے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں آ گیا۔ میں نے اپنے ہمسائے سے درخواست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیئے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنو
ا سکوں، اُس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اُس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکس کر ڈالی، میرے ہمسائے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس نوجوان کے ہمسائے کو بلا بھیجا۔ ہمسایہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے نوجوان کی شکایت سُنائی جسے اُس نے تسلیم کیا کہ واقعتا ایسا ہی ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا کہ تم اپنی کھجور کا درخت اِس نوجوان کیلئے چھوڑ دو یا اُس درخت کو نوجوان کے ہاتھوں فروخت کر دو اور قیمت لے لو۔ اُس آدمی نے دونوں حالتوں میں انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو ایک بار پھر دہرایا؛ کھجور کا درخت اِس نوجوان کو فروخت کر کے پیسے بھی وصول کر لو اور تمہیں جنت میں بھی ایک عظیم الشان کھجور کا درخت ملے گا جِس کے سائے کی طوالت میں سوار سو سال تک چلتا رہے گا۔ دُنیا کےایک درخت کے بدلے میں جنت میں ایک درخت کی پیشکش ایسی عظیم تھی جسکو سُن کر مجلس میں موجود سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما دنگ رہ گئے۔ سب یہی سوچ رہے تھے کہ ایسا شخص جو جنت میں ایسے عظیم الشان درخت کا مالک ہو کیسے جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں جائے گا۔ مگر وائے قسمت کہ دنیاوی مال و متاع کی لالچ اور طمع آڑے آ گئی اور اُس شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچنے سے انکار کردیا۔
مجلس میں موجود ایک صحابی (ابا الدحداح) آگے بڑھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اگر میں کسی طرح وہ درخت خرید کر اِس نوجوان کو دیدوں تو کیا مجھے جنت کا وہ درخت ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں تمہیں وہ درخت ملے گا۔ ابا الدحداح اُس آدمی کی طرف پلٹے اور اُس سے پوچھا میرے کھجوروں کے باغ کو جانتے ہو؟ اُس آدمی نے فورا جواب دیا؛ جی کیوں نہیں، مدینے کا کونسا ایسا شخص ہے جو اباالدحداح کے چھ سو کھجوروں کے باغ کو نہ جانتا ہو، ایسا باغ جس کے اندر ہی ایک محل تعمیر کیا گیا ہے، باغ میں میٹھے پانی کا ایک کنواں اور باغ کے ارد گرد تعمیر خوبصورت اور نمایاں دیوار دور سے ہی نظر آتی ہے۔ مدینہ کے سارے تاجر تیرے باغ کی اعلٰی اقسام کی کھجوروں کو کھانے اور خریدنے کے انتطار میں رہتے ہیں۔ ابالداحداح نے اُس شخص کی بات کو مکمل ہونے پر کہا، تو پھر کیا تم اپنے اُس کھجور کے ایک درخت کو میرے سارے باغ، محل، کنویں اور اُس خوبصورت دیوار کے بدلے میں فروخت کرتے ہو؟ اُس شخص نے غیر یقینی سے سرکارِ دوعالم کی طرف دیکھا کہ کیا عقل مانتی ہے کہ ایک کھجور کے بدلے میں اُسے ابالداحداح کے چھ سو کھجوروں کے باغ کا قبضہ بھی مِل پائے گا کہ نہیں؟ معاملہ تو ہر لحاظ سے فائدہ مند نظر آ رہا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور مجلس میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے گواہی دی اور معاملہ طے پا گیا۔
ابالداحداح نے خوشی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور سوال کیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جنت میں میرا ایک کھجور کا درخت پکا ہو گیا ناں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ ابالدحداح سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے حیرت زدہ سے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا اُس کا مفہوم یوں بنتا ہے کہ؛ اللہ رب العزت نے تو جنت میں ایک درخت محض ایک درخت کے بدلے میں دینا تھا۔ تم نے تو اپنا پورا باغ ہی دیدیا۔ اللہ رب العزت جود و کرم میں بے مثال ہیں اُنہوں نے تجھے جنت میں کھجوروں کے اتنے باغات عطاء کیئے ہیں کثرت کی بنا پر جنکے درختوں کی گنتی بھی نہیں کی جا سکتی۔ ابالدحداح، میں تجھے پھل سے لدے ہوئے اُن درختوں کی کسقدر تعریف بیان کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اِس بات کو اسقدر دہراتے رہے کہ محفل میں موجود ہر شخص یہ حسرت کرنے لگا اے کاش وہ ابالداحداح ہوتا۔ ابالداحداح وہاں سے اُٹھ کر جب اپنے گھر کو لوٹے تو خوشی کو چُھپا نہ پا رہے تھے۔ گھر کے باہر سے ہی اپنی بیوی کو آواز دی کہ میں نے چار دیواری سمیت یہ باغ، محل اور کنواں بیچ دیا ہے۔ بیوی اپنے خاوند کی کاروباری خوبیوں اور صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتی تھی، اُس نے اپنے خاوند سے پوچھا؛ ابالداحداح کتنے میں بیچا ہے یہ سب کُچھ؟ ابالداحداح نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے یہاں کا ایک درخت جنت میں لگے ایسے ایک درخت کے بدلے میں بیچا ہے جِس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلتا رہے۔ ابالداحداح کی بیوی نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا. ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے
Tum Haq Par Ho...
حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فر ما یا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک با د شاہ تھا اور اس کا ( مشیر ' وزیر ) ایک جا دوگر تھا ' جب وہ بو ڑھا ہو گیا تو اس نے با دشاہ سے کہا 'میں تو اب بوڑھا ہو گیا ہوں لہٰذا تم ایک لڑکا میرے سپر د کر دو تا کہ میں اسے جا دو سکھا دوں ۔ پس اس نے ایک لڑکا اس کے سپرد کر دیا وہ اسے جا دوسکھا تا اس لڑکے کے راستے میں ایک راہب ( پا دری) بھی تھا ' وہ اس کے پا س بیٹھتا ' اسکی باتیں سنتا تو وہ اسے اچھی لگتیں 'اب وہ جب بھی جا دوگر کے پا س جا تاتو پا دری سے ہو کر گزرتا اور کچھ دیر اس کے پا س بیٹھتا ' پس جب وہ جا دوگر کے پا س جا تا ' تو وہ اسے (تاخیر پر ) ما رتا ' اس لڑکے نے پادری سے ا س جادوگر کی شکایت کی تو اس نے کہا : جب تمہیں جا دوگر کا ڈر ہو تو کہہ دیا کروکہ میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب تجھے اپنے گھر والوں کا ڈ ر ہو تو کہہ دیا کروں کہ مجھے جا دوگر نے روک لیا تھا ۔ پس اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا کہ ایک روز اس نے راستے میں ایک بہت بڑاجا نور دیکھا ' جس نے لوگوں کو روک رکھا تھا ' اس ( لڑکے) نے کہا : آج پتا چل جا ئے گا کہ آیا جا دوگر افضل ہے یا پادری افضل ہے ؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا : اے اللہ ! اگر ر اہب کا معاملہ تیرے نزدیک جا دوگر کے معا ملے سے زیاہ محبو ب ہے تو پھر اس جا نور کو مار دے تا کہ لوگ گز ر جائیں ۔ پس اس نے وہ پتھر اس جا نور کو ما ر اجس سے وہ ہلا ک ہو گیا اور لوگ گزر گئے۔ پس وہ را ہب کے پا س آیاسے یہ واقعہ بتا یا تو راہب نے اسے کہا : اے بیٹے ! آج سے تم مجھ سے افضل ہو ' تمہارا معاملہ وہاں تک پہنچ گیا ہے ۔ میں اسے دیکھ رہا ہو ں ۔ اور تم عنقریب آزمائے جا ؤ گے ۔ اور جب تمہاری آزمائش ہو تو میرے متعلق نہ بتا نا ۔ اب وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کو ڑھی کو ٹھیک کر دیتا تھا ۔ اور باقی تما م بیما ریوں کا بھی علا ج کر تا تھا 'با دشاہ کے ایک ہم نشین نے جب سنا جو اندھا ہو چکا تھا ۔ ' تو وہ بہت سے تحا ئف لے کر اسکے پا س آیا اور کہا : اگر تم مجھے شفا دے دو تو میں یہ جتنے تحایف یہا ں لےکر آیا ہو ں وہ سب تمہارے ہوں گے ۔ اس لڑکے نے کہا :میں تو کسی کو بھی شفا نہیں دیتا ' شفا تو اللہ تعالیٰ عطا کر تا ہے ۔ ' اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایما ن لے آؤ تو میں اللہ تعا لیٰ سے دُعا کرونگا َ۔ تو تجھے شفا عطا فر ما دے گا ۔ پس وہ اللہ پر ایما ن لے آیا تو اللہ نے اسے شفا عطا فر ما دی ۔ پس وہ با دشاہ کے پاس آیا اور اس کے پا س بیٹھ گیا ۔ جیسے وہ پہلے بیٹھا کر تا تھا۔ با دشاہ نے اس سے پو چھا تیری بینا ئی کس نے لو ٹادی ؟ اس نے کہا : میرے رب نے ۔ اس نے کہا : کہا میرے علا وہ بھی تمہارا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا : میرا اور تمہا را رب اللہ ہے ۔ با دشا ہ نے اسے گر فتا ر کر لیا اور اسے مسلسل سزا دیتا رہا حتیٰ کہ اس نے لڑکے کے بارے میںبتا دیا ۔ پس لڑکے کو لایاگیا تو با دشاہ نے اس سے کہا : بیٹے ! تیرا جا دو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ توما در زاداندھے اورکوٹھی کو ٹھیک کر دیتا ہے ۔ اور تو فلاں فلاںکام بھی کر تا ہے ۔ لڑکے نے کہا:میں تو کسی کوبھی شفا ء نہیں دیتا شفاء تو اللہ تعالیٰ عطاکرتا ہے ۔ پس اس نے اسے بھی گر فتا رکر لیا اور اسے مسلسل سزادیتا رہا حتیٰ کہ اس نے را ہب کے با رے میں بتا دیا ' را ہب کو بھی پیش کیا گیا تو اسے کہا گیا کہ تم اپنے دین سے پھر جا ؤ ۔ اس نے انکار کر دیا ' بادشاہ نے آرامنگوایا اور آرے کو اسکے سر کے در میا ن یعنی ما نگ والے مقام پر رکھ دیا اور اس کے سر کو دو حصوںمیں چیر دیا ' پھر با دشاہ کے ہم نشین کو بلا یا گیا ۔اور اسے بھی کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ اس نے بھی انکا رکر دیا' اس کے سر کے وسط میں بھی آرا رکھا گیا اور اسے دوحصوں میں چیر دیا گیا ۔ پھر لڑکے کو لایا گیا اسے بھی کہا گیا ۔ کہ اپنے دین سے پھر جا ؤ ۔ اس نے بھی انکار کر دیا اس نے اسے اپنے ( فو جی )سا تھےوں میں سے چند افر اد کے سپر د کر دیا ۔ اور کہا اسے فلا ں فلا ں پہا ڑپر لے جاؤ او ر اسے پہا ڑ پر چڑھا ؤ ' جب تم اس کی چوٹی پر پہنچ جاؤ تو وہا ں اگر یہ اپنے دین سے پھر جا ئے تو ٹھیک ورنہ اسے وہاں سے نیچے پھینک دو۔ پس وہ اسے لے گئے ۔ اسے لے کر پہا ڑپر چڑھ گئے ۔ اس لڑکے نے کہا : اے اللہ ! تو انکے مقابلے میں جیسے تو چاہے مجھے کا فی ہو جا ۔ چنانچہ پہا ڑنے جنبش کی ' جس سے وہ سب نیچے گر گئے او وہ لڑکا با دشاہ کے پاس پہنچ گیا ۔ تو با دشاہ نے اس سے پو چھا : تیرے سا تھیوں کو کیا ہوا؟ تو اس نے کہا :اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میںمجھے کا فی ہو گیا ۔ پھر با دشاہ نے اسے اپنے ( فوجی ) ساتھیوں میں سے چند افر اد کے حوالے کیا اور کہا : اسے لے جا ؤاور اسے کشتی میں سوار کر لو'جب سمندر کے درمیان میں پہنچ جاؤ تو ا س سے پو چھو ' اگر یہ اپنے دین سے پھر جا ئیں تو ٹھیک 'ور نہ اسے سمندر میں پھینک دو ' پس وہ اسے لے گئے ' تو اس نے کہا : اے اللہ ! انکے مقابلے میں جیسے تو چاہے مجھے کا فی ہوجا ' پس کشتی الٹ گئی ' وہ سب غرق ہو گئے اور وہ لڑکا با دشاہ کے پا س آگیا ۔
با دشاہ نے اسے کہا : تیرے سا تھیوں کا کیا بنا َ؟تو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ ان کے مقابلے میں مجھے کا فی ہوگیا ' پھر لڑکے نے با دشاہ سے کہا :تم مجھے قتل نہیں کر سکتے حتیٰ کہ میرے بتا ئے ہو ئے طریقے کے مطا بق عمل کرو۔ َ با د شاہ نے کہا : وہ طر یقہ کیاہے؟ اس نے کہا : تم کسی کھلے میدا ن میں لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کسی تنے پر سولی دینے کےلئے چڑھا دو ' پھر میرے ترکش سے تیر لے کر اسے کما نکے در میا ن رکھ ' پھر یوں کہہ کر اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے ۔ پھر وہ تیر مجھ پر چلا پس جب تم یوں کروں گے تو مجھے قتل کرنے میں کا میاب ہوجا ؤ گے ۔ پس اس نے ایک کھلے میدا ن میں لوگو ں کو جمع کیا ' اسے ایک تنے پر سولی چڑھا یا ' پھر اس کے ترکش سے ایک تیر نکا لا ' پھر اسے کما ن کے چلے تا نت پررکھا اور کہا : اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے ' پھر ا س نے تیر پھینکا اور تیر اسکی کنپٹی پر لگا ' اس نے اپنا ہا تھ کنپٹی پر رکھا اور فو ت ہو گیا ۔ لوگوں نے کہا : ہم ا س لڑکے کے رب پر ایما ن لے آئے ۔ ( حکومت کے ) لوگ با دشاہ کے پا س آئے اور اسے کہا : دیکھا تم جس چیز سے ڈرتے تھے ' اللہ کی قسم ! وہی ہو ا او رتمہارا ڈر تمہا رے سا منے آگیا ' ( عوام ) لوگ تو سارے ایما ن لے آ ئے ۔ با دشاہ نے حکم دیا کہ سڑکوں کے کنا رے خند قیں کھودی جا ئیں ' پس وہ کھو دی گئیں ۔ اور ان میں آگ جلا دی گئی ' تو با دشاہ نے کہا : جو شخص اپنے دین سے نہ پھر ے اسے اس میں جھو نک دو یا اسے کہا جا ئے کہ آگ میں داخل ہو جا ۔ انھوںنے ایسے ہی کیا ' حتیٰ کہ ایک عورت آئی جس کے سا تھ اس کا ایک بچہ بھی تھا 'اس عورت نے آگ میں دا خل ہو نے سے جھجک محسوس کی تو بچے نے اسے کہا !اما ں ! صبر کرو! یقینا تم حق پر ہو۔
'' (مسلم )
توثیق الحدیث :أخرجہ مسلم (٣٠٠٥)ََ۔