Jahangir Tareen won elections in NA-154
Election NA-154
Muslim League hat-trick against the movement, overturning the election of NA 154
ملتان: الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 125 اور این اے 122 کے بعد این اے 154 لودھراں میں بھی تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ سنا کر ن لیگ کے صدیق خان بلوچ کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
ٹریبونلز میں سماعت كے دوران نادرا كی طرف سے جو رپورٹ پیش كی گئی اس كے مطابق 290 پولنگ اسٹیشن پر ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 2 لاكھ 18 ہزار 56 تھی جن میں سے 20 ہزار 601 غیر تصدیق شدہ ووٹ ایسے تھے جن كی كاؤنٹر رسید پر دستخط ہی نہیں تھے جب کہ 121 ووٹ ایسے تھے جو اس حلقے كے ہی نہیں تھے اور 728 ووٹ ڈپلكیٹ تھے، 587 ووٹ كی كاؤنٹر رسید پر انگوٹھوں كے نشان نہیں تھے اور 73 ہزار 707 ووٹوں كی تصدیق ہو سكی، 179انگوٹھوں كے نشانات كی تصدیق نہیں ہو سكی اسی طرح ایک لاكھ 22 ہزار 113 ووٹوں كی تصدیق نہ ہو سكی، سماعت کے دوران عدالت میں بورڈ یونیورسٹی اور ہائر ایجوكیشن كمیشن كا ریكارڈ بھی پیش كیا گیا۔
ٹریبونل کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف كے مركزی رہنما جہانگیر ترین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف میرے حلقے میں ہی نہیں ہوئی بلكہ پورے ملك میں دھاندلی ہوئی، عمران خان نے 4 حلقوں كی بات كی تھی اور تحریك انصاف نے ان میں سے 3 حلقے الٹ دیئے۔ انہوں نے کہا کہ الیكشن كمیشن كے چاروں صوبوں كے اركان كو مستعفی ہو جانا چاہیئے جب کہ پرویز رشید اور رانا ثناءاللہ كو جج كو دھمكیاں دینے پر برطرف كیا جائے۔
دوسری جانب چیرمین تحریک انصاف عمران خان نے ٹریبونلز کے فیصلے کے بعد جہانگیر ترین کو فون کرکے مبارکباد دی جب چیرمین پی ٹی آئی نے فیصلے کو تحریک انصاف کی سیاسی فتح قرار دیا۔
الیكشن ٹریبونل کے فیصلے سے قبل ٹریبونل كے باہر كا علاقہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) كے كاركنوں كے درمیان میدان جنگ بنا ر ہا اگرچہ پولیس كی بھاری نفری بھی تعینات تھی اس كے باوجود كاركن كئی مرتبہ ایك دوسرے سے گتھم گتھا ہوئے اور ایك دوسرے كو تھپڑ اور گھونسے مارے اور ایك دوسرے كے كپڑے پھاڑ دیئے۔ بعد ازاں پولیس كی بھاری نفی طلب كر لی گئی جس نے كاركنوں كو مخالف سمت میں دھكیل دیا اور حالات كو قابو كر لیا۔
واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں این اے 154 لودھراں سے آزاد امیدوار صدیق خان بلوچ نے 86 ہزار 177 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی اور پھر (ن) لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی، دوسرے نمبر پر آنے والے جہانگیر ترین نے 75 ہزار 955 ووٹ لئے۔ جہانگیر ترین نے صدیق خان بلوچ کی کامیابی کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا۔