ایک تازہ سروے کے مطابق موبائل انٹرنیٹ ڈیوائسز اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث سال 2016ء تک دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک میں موجودہ حجم کے مقابلے میں چار گنا تک اضافہ ہو جائے گا۔نیٹ ورکنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف امریکی کمپنی سسکو کے 'وژیول نیٹ ورکنگ انڈیکس' کے مطابق 2016ء تک عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کا حجم 1.3 زیٹا بائٹس تک پہنچ جائے گا۔ ایک زیٹا بائٹ ایک ٹریلین گیگا بائٹ کے برابر ہوتا ہے۔یہ حجم سال 2011ء میں انٹرنیٹ ٹریفک کے مقابلے میں چار گنا ہے۔سسکوکے مطابق اس حیران کن اضافے کی وجہ ٹیبلٹ کمپیوٹرز، اسمارٹ فونز اور ایسی دیگر ڈیوائسز کا مسلسل تیزی سے بڑھتا ہوا استعمال ہے جن پر انٹرنیٹ استعمال ہوتا ہے۔سسکو کمپنی کے نائب صدر سوراج شیٹھی کے مطابق، '' ہر وقت انٹرنیٹ سے منسلک رہنے والے لائف اسٹائل میں ہم میں سے ہر ایک متعدد ڈیوائس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ نیٹ ورک سے جڑتا جا رہا ہے۔'' شیٹھی مزید کہتے ہیں، ''بھلے وہ موبائل فون پر ویڈیو کال ہو، ٹیبلٹ کمپیوٹرز پر فلمیں دیکھنے کا عمل ہو، ویب سے منسلک ٹیلی وژن سیٹ ہوں یا ویڈیو کانفرنسنگ کا عمل، ہمارے ایسے معمولات نہ صرف زیٹابائٹ بینڈ وڈتھ کی ضرورت کو بڑھا رہے ہیں بلکہ اس مقصد کے لیے درکار نیٹ ورک میں بھی ڈرامائی تبدیلیوں کے متقاضی ہیں۔تاکہ مسلسل بڑھتی ہوئی ضروریات سے عہدہ برآ ہوا جا سکے۔اندازوں کے مطابق 2016ء تک دنیا بھر میں انٹرنیٹ کنکشنز کی تعداد 18.9 بلین تک پہنچ جائے گی۔ یعنی دنیا میں موجود ہر ایک فرد کے لیے اوسطا 2.5 کنکشن۔ 2011ء میں انٹرنیٹ کنکشنز کی یہ تعداد 10.3 بلین تھی۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2016ء تک دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 3.4 بلین تک پہنچ جائے گی۔ یہ تعداد اس وقت تک متوقع کُل آبادی کا قریب 45 فیصد ہوگی۔اگلے چار برسوں کے دوران صرف انٹرنیٹ ٹریفک کے حجم میں ہی اضافہ نہیں ہوگا بلکہ فکسڈ لائنز پر انٹرنیٹ کی رفتار بھی موجودہ رفتار کی نسبت چار گنا تک بڑھنے کی توقع ہے۔ 2011ء میں یہ رفتار نو میگابائٹ فی سیکنڈ تھی، جبکہ اندازے کے مطابق 2016ء تک یہ رفتار 34 میگابائٹ فی سیکنڈ تک پہنچ جائے گی۔
All about Pakistan,Islam,Quran and Hadith,Urdu Poetry,Cricket News,Sports News,Urdu Columns,International News,Pakistan News,Islamic Byan,Video clips
Wednesday, June 27, 2012
کہکشاؤں کا تصادم چار ارب سال بعد
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ تقریباً چار ارب سال کے بعد ہماری کہکشاں ملکی وے اپنی ہمسایہ کہکشاں اینڈرومیڈا سے ٹکرا جائے گی۔ماہرین نے یہ نتیجہ نکالنے کے لیے ہبل دوربین کی مدد لی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ لاکھوں نوری سال دور واقع یہ دونوں کہکشائیں اپنی اپنی کششِ ثقل کی وجہ سے ایک دوسرے کی جانب کھنچی چلی جا رہی ہیں اور چار ارب سال بعد یہ آپس میں ٹکرائیں گی اور اس کے دو ارب سال بعد یہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں گی۔ماہرین کے مطابق اس تصادم کے نتیجے میں ہمارے سورج کی پوزیشن پر تو اثر پڑے گا لیکن خود سورج اور اس کے سیاروں کی تباہی کا امکان موجود نہیں ہے۔ماہرین کی ٹیم کے سربراہ اور امریکی ریاست بالٹی مور کے خلائی دوربینی سائنسی مرکز سے تعلق رکھنے والے رولینڈ وین ڈرمیرل کا کہنا ہے کہ ' آج اینڈرومیڈا نامی یہ کہکشاں آسمان پر ایک چھوٹی سی چیز دکھائی دیتی ہے اور اسے پہلی بار ماہرینِ فلکیات نے ایک ہزار سے زائد عرصہ قبل دیکھا تھا'۔ان کا کہنا ہے 'چند ہی چیزیں ہیں جن میں انسان کی دلچسپی کائنات کی قسمت اور اس کی مستقبل کے بارے میں جاننے سے زیادہ ہے اور یہ پیشن گوئی کرنا کہ یہ چھوٹی سی چیز(اینڈرومیڈا) ایک دن ہمارے سورج اور نظامِ شمسی پر غلبہ پا لے گی یقیناً ایک اچھوتی چیز ہے'۔ملکی وے اور اینڈرومیڈا میں پچیس لاکھ نوری سال کا فاصلہ ہے اور یہ ایک دوسرے کی جانب چار لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔ماہرینِ فلکیات کے مطابق چار ارب سال کے بعد یہ دونوں اتنی قریب آ جائیں گی کہ اینڈرومیڈا ہماری کہکشاں پر غالب آ جائے گی۔رولینڈ وین ڈرمیرل کے مطابق 'یہ جاننا ضروری ہے کہ نہ صرف اینڈرومیڈا ہماری جانب بڑھ رہی ہے بلکہ یہ اپنے اطراف کی جانب کیسے حرکت کر رہی ہے کیونکہ اسی سے پتہ چل سکتا ہے کہ آیا اینڈرومیڈا ہم سے کچھ دور سے نکل جائے گی یا وہ سیدھی ہماری جانب ہی آ رہی ہے'۔ماہرینِ فلکیات اینڈرومیڈا کی اطراف میں حرکت کو جانچنے کی کوشش ایک صدی سے کر رہے تھے لیکن اس میں ناکامی ہوتی رہی جس کی وجہ پیمائش کے لیے درکار صلاحیت کی عدم موجودگی تھی۔رولینڈ کے مطابق 'اب پہلی مرتبہ ہم نے ہبل خلائی دوربین کی مدد سے اس کی اطراف میں ہونے والی حرکت کو جسے علمِ فلکیات میں باقاعدہ حرکت کہا جاتا ہے، ناپنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ہبل سے حاصل شدہ اعدادوشمار سے تیار کیے گئے کمپیوٹر ماڈل سے پتہ چلا کہ ستاروں کے یہ دونوں بڑے جھرمٹ آخرِ کار ایک ہوجائیں گے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ کہکشاؤں کے تصادم کے باوجود ان کے ستارے آپس میں نہیں ٹکرائیں گے کیونکہ ان کے درمیان وسیع خلاء موجود ہے۔ماہرین کے مطابق سات ارب سال میں یہ ادغام ایک بہت بڑی کہکشاں کی شکل اختیار کر لے گا جس کا مرکز منور ہوگا۔
مچھر سے مشابہہ جان لیوا ڈرون متعارف
مچھروں کو انسانی اموات کے لحاظ سے دنیا کا سب سے خطرناک کیڑا مانا جاتا ہے امریکی سائینسدانوں نے اس سے مشابہہ جان لیوا مشین بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب پاکستانی علاقوں میں میزائل برسانے والے یا برندوں کے حجم کے ڈرونز کو بھول جائیں کیونکہ امریکہ نے اب مچھر ڈرونز بنانا شروع کر دیئے ہیں۔ امریکی فضائیہ نے مائیکرو جاسوس طیارے متعارف کرائے ہیں جو مکھیوں اور مچھروں کے برابر ہیں جن کی موجودگی کا عام لوگ نوٹس نہیں لیں گے۔ یہ مچھر کے سائز والے ڈرون طیارے رواں برس سے کام کرنا شروع کر دیں گے اور تصاویر کھینچنے کے ساتھ ساتھ یہ خطرناک جراثیم بھی دشمن کے علاقوں میں پھیلائے گے۔اس کے علاوہ امریکی فضائیہ اسی نوعیت کے بمبار ڈرونز کی تیاری پر بھی کام کررہی ہے جو 2015 تک تیار ہو جائیں گے۔ مستقبل میں ڈرون طیاروں کا سائز مچھر، مکھی یا تتلی کے برابرہوجائے گا تاہم ان کی سفاکی کئی گنابڑھ جائےگی۔ مائیکرو ایئر وہیکلز نامی ان ننھے منے حشرات نما ڈرون طیاروں کی امریکا میں نمائش کی جاچکی ہے اوران کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ شمسی توانائی سے اڑنے والے یہ طیارے دوہزارپندرہ تک امریکی فوج کا حصہ بن جائیں گے۔ یہ ننھے ڈرون نہ صرف ٹارگٹ کی انتہائی قریب سے نگرانی کر سکیں گے بلکہ ان کی تصاویراور مقام کی درست معلومات بھی ہیڈکوارٹرکو بھیجیں گے۔ نینو ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کئے گئے مکھی یا مچھر جتنے یہ ڈرون دوسرے کاموں کے دوران بھی دہشتگردوں کو نشانہ بنا سکتےہیں۔ مچھرنما ایک ایسا ڈرون بھی بنا لیا گیا ہے جس کے منہ پر سرنج لگی ہوتی ہے جس میں موجود انتہائی مہلک زہر کسی بھی شکار کو با آسانی موت کےگھاٹ اتار سکتا ہے۔
کیا آپ کا پاسورڈ ہیکرز کی گرفت سے محفوظ ہے۔۔؟؟
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کیآپ کا پاسورڈ کتنا مضبوط ہے۔۔؟کیا آپ کا پاسورڈ ہیک نہیں ہو سکتا۔۔؟یہ ان کیلئے ایک عام سا سوال ہے جن کیلئے آن لائن اکاؤنٹ کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔لیکن ان کیلیئے بہت ہی زیادہ اہم جو آن لائن اکاؤنٹ کو دوسروں سے رابطہ کیلیئے استعمال کرتے ہیں۔کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا پاسورڈ کتنا مضبوط ہے۔۔؟اگرآپ واقعی جاننا چاہتے ہیں تو آپ کیلیئے ایک آن لائن ٹول حاضر ہے۔۔۔اس ٹول کا نام ہے۔
How Secure Is My Password?
میرا پاسورڈ کتنا مضبوط ہے۔۔؟؟یہ ٹول آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کا پاسورڈ کتنا مضبوط ہے۔۔۔؟؟آپ کے پاسورڈ کو ہیک کرنے کیلیئے ایک عام کمپیوٹر کو کتنا عرصہ لگے گا۔۔؟؟میں نے اس کے ذریعے ایک پاسورڈ کو چیک کیا۔ٹول کے مطابق اس پاسورڈ کو ہیک کرنے کیلیئے عام کمپیوٹر کو 256 ملین سال لگیں گے۔۔۔
نوٹ: اس طرح کی سائٹس کہتی ہیں کہ "ہم کسی قسم کی معلومات یا پاسورڈ سٹور نہیں کرتے"۔
لیکن اپنے تحفظ کیلیئے آپ اپنے اصلی پاسورڈ کا ملتا جلتا پاسورڈ ٹرائی کریں۔جیسا کہ اگر آپ کا پاسورڈمیاں جی ہے تو آپ ابرار 874 ٹرائی کرسکتے ہیں۔
اسطرح آپ کو یہ پتہ چل سکتا ہے کہ ہندسوں اور الفاظ کے ملاپ سے پاسورڈ کتنا مضبوط ہوسکتا ہے۔
لنک یہ ہے
http://howsecureismypassword.net
آپ یہاں کلک کرکے مائیکرو سافٹ کا پاسورڈ چیکر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
لنک یہ ہے
https://www.microsoft.com/security/pc-s ... ecker.aspx
لوگوں کو خاموش کر دینے والا سائنسی آلہ۔
جاپان کے سائنسدانوں نے حال ہی میں دعویٰ کیاہے کے انہوں نےایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جس سے کسی بھی فرد کی بولنے کی صلاحیت کواچانک روکا جاسکتا ہے اس آلے کوسپیچ جیمر کا نام دیا گیا ہے۔ جو کہ کسی بھی وقت زیادہ بولنے والوں کو اچانک خاموش کر سکتا ہے خبر رساں ایجنسی کے مطابق سائیسدانوں نےکہا کہ سپیچ جیمر نام کا یہ آلہ زیادہ بولنےوالوں کو اچانک خاموش کر سکتا ہے چاہے وہ کسی میٹنگ یا فلم کے دوران شورکررہےہوں یا پھرلائبریری میں فون پراونچی آواز میں بات کر رہے ہوںاس آلے کو بنانے والوں نے ماہرین نفسیات کی اس دریافت کافائدہ اُٹھایا ہےجب آپ ہی کے الفاط صرف ایک سیکنڈ کی تاخیرکے بعد دوہرائے جاتے ہیں تو آپ بات کرنےمیں تقریباغیر فعال ہوجاتے ہیں اس آلے کو ہاتھہ میں پکڑا جاسکتا ہے اس میں ایک مائیکروفون اور سپیکر ہےجو بولنےوالے کی آواز کو ریکارڈ کرتا ہےسائنسدانوں کا کہنا ہے کے یہ اس آواز کو سپیکر کو بھیج دیتا ہےاور اسے 0.2 سیکنڈکی تاخیر کے بعد دوبارہ سناتاہےمائیکروفون اور سپیکر کی ایک سمت ہوتی ہے اور دور ہی اسے بندوق کی طرح بولنے والے کی طرح کیا جاسکتا ہے
دُنیا کا سب سے چھوٹا اور تیز ترین گیگاپکسل کیمرا
امریکی انجینیئروں نے دُنیا کا سب سے چھوٹا اور تیز ترین گیگاپکسل کیمرا بنا لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ہوائی اڈوں کی سکیورٹی اور عسکری نگرانی کے ساتھ آن لائن اسپورٹس کوریج کو بہتر کرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس نئے گیگا پکسل کیمرے کا سائز بیڈسائیڈ کیبینیٹ کے برابر بتایا گیا ہے، جو قبل ازیں دستیاب کیمروں کے مقابلے میں لی گئی تصویر کو ایک ہزار گنا زیادہ تفصیل سے دکھا سکتا ہے۔ایک پِکسل دراصل کسی ڈیجیٹل تصویر میں ایک چھوٹا لائٹ پوائنٹ ہے اور پکسلز کے کثیر مجموعے سے ہی ایک تصویر تشکیل پاتی ہے۔دورِ حاضر کے کیمروں سے لی گئی تصاویر کا پیمانہ میگا پکسلز (دس لاکھ پکسلز) ہیں اور عام کیمرا آٹھ سے چالیس میگاپکسلز تک ہوتا ہے۔ ایک گیگاپکسل ایک ہزار میگا پکسلز سے بنتا ہے اور اس میں ایک ارب پکسلز ہوتے ہیں۔اِن دنوں زیادہ تر گیگاپکسل امیجز متعدد میگاپکسل تصاویر کو کمپیوٹر کے ذریعے باہم ملا کر بنائے جاتے ہیں۔نئے گیگاپکسل کیمرے کے بارے میں سائنسی تحقیق کے جریدے 'نیچر' میں تفصیل جاری کی گئی ہے۔ یہ کیمرا بنانے والی ٹیم کے رکن اور شمالی کیرولینا میں ڈیوک یونیورسٹی سے وابستہ ڈیوڈ بریڈی نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات چیت میں کہا: ''ہمارا کیمرا ایک سیکنڈ کے دسویں حصے سے بھی کم وقت میں ایک گیگاپکسل تصویر ریکارڈ کرتا ہے۔گیگاپکسل امیج میں وہ تفصیل بھی دکھائی دیتی ہے جو انسانی آنکھ سے اوجھل ہو اور بعدازاں 'زُوم اِن' کے ذریعے واضح طور پر اس کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے۔۔ اس کا آپٹیکل سسٹم چھ سینٹی میٹر اورگیند کی شکل کے لینس پر مشتمل ہے جس کے گرد اٹھانوے مائیکرو کیمرے لگے ہیں اور ہر کیمرا چودہ میگاپِکسل سینسر کے ساتھ ہے۔بریڈی کا کہنا ہے کہ اس کیمرے کے آپٹیکل سسٹم کا وزن دس کلوگرام ہے جبکہ کیمرا مجموعی طور پر پینتالیس کلوگرام وزنی ہے۔بریڈی کہتے ہیں کہ اجرامِ فلکی کے مشاہدے کے لیے انتہائی خاص نوعیت کی گیگاپکسل دُور بینیں اور فضائی نگرانی کے آلات پہلے سے ہی استعمال میں ہیں، تاہم نئے کیمرے کے مقابلے میں ان کا سائز زیادہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایسے کیمرے کی قیمت ہائی ریزولوشن مووی کیمرے کے برابر ہو گی، یعنی ایک لاکھ ڈالر سے ڈھائی لاکھ ڈالر تک۔بتایا جاتا ہے کہ پانچ سال میں قیمتیں نیچے آ سکتی ہیں، جس کے بعد دستی گیگاپکسل کیمرے بھی متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔بریڈی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کھیلوں کے مقابلے اسٹریمنگ کے ذریعے انٹرنیٹ پر دکھانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے جس کی مدد سے ناظرین کھیل کو کسی بھی پہلو سے زُوم اِن کر کے دیکھ سکیں گے۔