Tuesday, October 30, 2012

Hikayat-e-Aoulia

ہمیشہ خلقت کی بہتری چاہو۔۔اللہ تمھارے دشمنون کو تمھارا مطیع کر دے گا۔۔۔ نیکی ایسے کرو جیسے بارش جگہ نہیں دیکھتی بلکہ ہر جگہ کو سیراب کر دیتی ہے۔۔یاد رکھو تمھارے عمل سے ثابت ہونا چاہئے کہ تم رب رحمان کے ماننے والے ہو۔۔۔

اس انسان پر افسوس جو ظلم کے جواب میں ظالم بن جائے۔ اس انسان پر افسوس نام اللہ کا لے مگر شر کے ذریعے اللہ کی رضا کو تلاش کرے۔ اس انسان پر افسوس جو رسول اللہ کو اپنا رہبر مانے۔اور ان کی شریعت کو اللہ کی رضا کے حصول کے غرض سے پامال کرے

Hikayat-e-Aoulia

ہمیشہ خلقت کی بہتری چاہو۔۔اللہ تمھارے دشمنون کو تمھارا مطیع کر دے گا۔۔۔ نیکی ایسے کرو جیسے بارش جگہ نہیں دیکھتی بلکہ ہر جگہ کو سیراب کر دیتی ہے۔۔یاد رکھو تمھارے عمل سے ثابت ہونا چاہئے کہ تم رب رحمان کے ماننے والے ہو۔۔۔

اس انسان پر افسوس جو ظلم کے جواب میں ظالم بن جائے۔ اس انسان پر افسوس نام اللہ کا لے مگر شر کے ذریعے اللہ کی رضا کو تلاش کرے۔ اس انسان پر افسوس جو رسول اللہ کو اپنا رہبر مانے۔اور ان کی شریعت کو اللہ کی رضا کے حصول کے غرض سے پامال کرے

Sab Rehmat Hay.. Sab Hair Hay...

سورة الم نشرح پڑھو ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں – ہر سختی کے بعد نرمی ہے۔۔بے شک ہر سختی کے بعد نرمی ہے-مقام آزمائیش کے بعد ملتا ہے۔جتنا سخت امتحان اتنا ہی بڑا انعام۔ آزمائیش تو اللہ کی محربانی ہے کیونکہ یہ ترقی کی نوید دیتی ہے۔ خوش نصیب ہے وہ جو آزمائیش میں ثابت قدم رہے۔۔۔ اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں-ہم یقیناً تمہیں آزمائین گے مال،اولاد۔۔۔۔۔ کے ذریعے تاکہ دیکھیں تم میں سے کون متقی ہے- 
۔
سزا 

بھی اللہ کی ایک رحمت ہے۔ غلط اعمال کے بعد ملنے والی سزا روح اور جسم کو پاکیزگی بخشتی ہے۔ خوش نصیب ہے وہ جو غلطی کرنے کے بعد توبہ کرے اور وہ جسے سزا اور توبہ کے بعد تطہیر حاصل ہو۔
اللہ ستار العیوب ہے۔ اللہ کسی کے بڑے خیال پر اس کی پکر نہیں کرتا مگر جہان خیال عمل کا روپ ڈھال لے تو پکر ہے۔اللہ اپنی رحمت سے اپنے بندون کے غلط خیالات کی پردا پوشی فرماتے ہیں۔ اگر بندا توبہ کرے تو اپنی رحمت سے بھی نوازتے ہیں۔
دوستو جو چیز بھی اللہ کی طرف سے آتی ہے چاہے وہ اچھائی ہو، آزمائیش ہو یا چاہے سزا ۔۔۔ سب رحمت ہے۔۔۔خیر ہے ۔۔۔

Sab Rehmat Hay.. Sab Hair Hay...

سورة الم نشرح پڑھو ۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں – ہر سختی کے بعد نرمی ہے۔۔بے شک ہر سختی کے بعد نرمی ہے-مقام آزمائیش کے بعد ملتا ہے۔جتنا سخت امتحان اتنا ہی بڑا انعام۔ آزمائیش تو اللہ کی محربانی ہے کیونکہ یہ ترقی کی نوید دیتی ہے۔ خوش نصیب ہے وہ جو آزمائیش میں ثابت قدم رہے۔۔۔ اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں-ہم یقیناً تمہیں آزمائین گے مال،اولاد۔۔۔۔۔ کے ذریعے تاکہ دیکھیں تم میں سے کون متقی ہے- 
۔
سزا 

بھی اللہ کی ایک رحمت ہے۔ غلط اعمال کے بعد ملنے والی سزا روح اور جسم کو پاکیزگی بخشتی ہے۔ خوش نصیب ہے وہ جو غلطی کرنے کے بعد توبہ کرے اور وہ جسے سزا اور توبہ کے بعد تطہیر حاصل ہو۔
اللہ ستار العیوب ہے۔ اللہ کسی کے بڑے خیال پر اس کی پکر نہیں کرتا مگر جہان خیال عمل کا روپ ڈھال لے تو پکر ہے۔اللہ اپنی رحمت سے اپنے بندون کے غلط خیالات کی پردا پوشی فرماتے ہیں۔ اگر بندا توبہ کرے تو اپنی رحمت سے بھی نوازتے ہیں۔
دوستو جو چیز بھی اللہ کی طرف سے آتی ہے چاہے وہ اچھائی ہو، آزمائیش ہو یا چاہے سزا ۔۔۔ سب رحمت ہے۔۔۔خیر ہے ۔۔۔

Chaman Say Aa Rahi Hay Boooay Kabab..

ایک بار مشاعرہ ہو رہا تھا، ایک م استاد اٹھے اور انہوں نے ایک طرح مصرعہ دیا۔
چمن سے آ رہی ہے بوئے کباب 

بڑے بڑے شاعروں نے طبع آزمائی کی لیکن کوئی گرہ نہ لگا سکا، ان میں سے ایک شاعر نے قسم کھالی کہ جب تک گرہ نہ لگائیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے، چنانچہ وہ ہرصبح دریا کے کنارے نکل جاتے اونچی آواز سے الاپتے۔ 
چمن سے آ رہی ہے بوئے کباب


ایک روز وہ دریا کے کنارے یہی مصرعہ الاپ رہے تھے کہ ادھرسے ایک کمسن لڑکا گزرا جونہی شاعر نے یہ مصرعہ پڑھا، وہ لڑکا بول اٹھا۔ 

کسی بلبل کا دل جلا ہوگا 

شاعر نے بھاگ کر اس لڑکے کو سینے سے لگایا۔ یہی لڑکا بڑا ہو کر جگر مرادآبادی بنا۔

چمن سے آ رہی ہے بوئے کباب 
کسی بلبل کا دل ____ جلا ہوگ

Chaman Say Aa Rahi Hay Boooay Kabab..

ایک بار مشاعرہ ہو رہا تھا، ایک م استاد اٹھے اور انہوں نے ایک طرح مصرعہ دیا۔
چمن سے آ رہی ہے بوئے کباب 

بڑے بڑے شاعروں نے طبع آزمائی کی لیکن کوئی گرہ نہ لگا سکا، ان میں سے ایک شاعر نے قسم کھالی کہ جب تک گرہ نہ لگائیں گے چین سے نہیں بیٹھیں گے، چنانچہ وہ ہرصبح دریا کے کنارے نکل جاتے اونچی آواز سے الاپتے۔ 
چمن سے آ رہی ہے بوئے کباب


ایک روز وہ دریا کے کنارے یہی مصرعہ الاپ رہے تھے کہ ادھرسے ایک کمسن لڑکا گزرا جونہی شاعر نے یہ مصرعہ پڑھا، وہ لڑکا بول اٹھا۔ 

کسی بلبل کا دل جلا ہوگا 

شاعر نے بھاگ کر اس لڑکے کو سینے سے لگایا۔ یہی لڑکا بڑا ہو کر جگر مرادآبادی بنا۔

چمن سے آ رہی ہے بوئے کباب 
کسی بلبل کا دل ____ جلا ہوگ

Shaikh Junaid Bagdari Aur Bahlool

ایک بار شیخ جنید بغدادی سفر کے ارادے سے بغداد روانہ ہوئے۔ حضرت شیخ کے کچھ مرید ساتھ تھے۔ شیخ نے مریدوں سے پوچھا: "تم لوگوں کو بہلول کا حال معلوم ہے؟"
لوگوں نے کہا: " حضرت! وہ تو ایک دیوانہ ہے۔ آپ اس سے مل کر کیا کریں گے؟"
شیخ نے جواب دیا: "ذرا بہلول کو تلاش کرو۔ مجھے اس سے کام ہے۔"
مریدوں نے شیخ کے حکم کی تعمیل اپنے لیے سعادت سمجھی۔ تھوڑی جستجو کے بعد ایک صحرا میں بہلول کو ڈھونڈ نکالا اور شیخ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں پہنچے۔ شیخ، بہلول کے سامنے گئے تو دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے ایک اینٹ رکھے ہوئے دراز ہیں۔
شیخ نے سلام کیا تو بہلول نے جواب دے کر پوچھا: "تم کون ہو؟"
"میں ہوں جنید بغدادی۔"
"تو اے ابوالقاسم! تم ہی وہ شیخ بغدادی ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سکھاتے ہو؟"
"جی ہاں، کوشش تو کرتا ہوں۔"
"اچھا تو تم اپنے کھانے کا طریقہ تو جانتے ہی ہو ں گے؟"
"کیوں نہیں، بسم اللہ پڑھتا ہوں اور اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں، چھوٹا نوالہ بناتا ہوں، آہستہ آہستہ چباتا ہوں، دوسروں کے نوالوں پر نظر نہیں ڈالتا اور کھانا کھاتے وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔"
پھر دوبارہ کہا: "جو لقمہ بھی کھاتا ہوں، الحمدللہ کہتا ہوں۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہوں اور فارغ ہونے کے بعد بھی ہاتھ دھوتا ہوں۔"
یہ سن کر بہلول اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن شیخ جنید کی طرف جھٹک دیا۔ پھر ان سے کہا: "تم انسانوں کے پیر مرشد بننا چاہتے ہو اور حال یہ ہے کہ اب تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے۔"
یہ کہہ کر بہلول نے اپنا راستہ لیا۔ شیخ کے مریدوں نے کہا: "یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔"
"ہاں! دیوانہ تو ہے، مگر اپنے کام کے لیے ہوشیاروں کے بھی کان کاٹتا ہے۔ اس سے سچی بات سننا چاہیے۔ آؤ، اس کے پیچھے چلیں۔ مجھے اس سے کام ہے۔"
بہلول ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ گئے۔
شیخ بغدادی اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے شیخ سے پھر یہ سوال کیا: "کون ہو تم؟"
"میں ہوں بغدادی شیخ! جو کھانا کھانے کا طریقہ نہیں جانتا۔"
بہلول نے کہا: "خیر تم کھانا کھانے کے آداب سے ناواقف ہو تو گفتگو کا طریقہ جانتے ہی ہوں گے؟"
شیخ نے جواب دیا: "جی ہاں جانتا تو ہوں۔"
"تو بتاؤ، کس طرح بات کرتے ہو؟"
"میں ہر بات ایک اندازے کے مطابق کرتا ہوں۔ بےموقع اور بے حساب نہیں بولے جاتا، سننے والوں کی سمجھ کا اندازہ کر کے خلق خدا کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ یہ خیال رکھتا ہوں کہ اتنی باتیں نہ کہوں کہ لوگ مجھ سے بیزار ہو جائیں۔ باطنی اور ظاہر ی علوم کے نکتے نظر میں رکھتا ہوں۔" اس کے ساتھ گفتگو کے آداب سے متعلق کچھ اور باتیں بھی بیان کیں۔
بہلول نے کہا: "کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف رہے۔ تمھیں تو بات کرنے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا۔" 
پھر شیخ سے منہ پھیرا اور ایک طرف چل دیے۔ مریدوں سے خاموش نہ رہا گیا۔ 
انہوں نے کہا: "یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔ آپ دیوانے سے بھلا کیا توقع رکھتے ہیں؟"
"بھئی! مجھے تو اس سے کام ہے۔ تم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔" اس کے بعد شیخ نے پھر بہلول کا پیچھا کیا۔ بہلول نے مڑ کر دیکھا اور کہا: "تمھیں کھانا کھانے اور بات کرنے کے آداب نہیں معلوم ہیں ۔ سونے کا طریقہ تو تمھیں معلوم ہی ہو گا؟"
شیخ نے کہا: "جی ہاں! معلوم ہے۔"
"اچھا بتاؤ، تم کس طرح سوتے ہو؟"
"جب میں عشا کی نماز اور درود و وظائف سے فارغ ہوتا ہوں تو سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں۔" یہ کہہ کر شیخ نے سونے کے وہ آداب بیان کیے جو انہیں بزرگان دین کی تعلیم سے حاصل ہوئے تھے۔
بہلول نے کہا: "معلوم ہوا کہ تم سونے کے آداب بھی نہیں جانتے۔"
یہ کہہ کر بہلول نے جانا چاہا تو حضرت جنید بغدادی نے ان کا دامن پکڑ لیا اور کہا: "اے حضرت! میں نہیں جانتا ۔ اللہ کے واسطے تم مجھے سکھا دو۔"
کچھ دیر بعد بہلول نے کہا: "میاں! یہ جتنی باتیں تم نے کہیں، سب بعد کی چیزیں ہیں۔ اصل بات مجھ سے سنو۔ کھانے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے حلال کی روزی ہونی چاہیے۔ اگر غذا میں حرام کی آمیزش (ملاوٹ) ہو جائے تو جو آداب تم نے بیان کیے، ان کے برتنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا اور دل روشن ہونے کے بجائے اور تاریک ہو جائے گا۔"
شیخ جنید نے بےساختہ کہا: "جزاک اللہ خیرأً۔" (اللہ تمہارا بھلا کرے)
پھر بہلول نے بتایا: "گفتگو کرتے وقت سب سے پہلے دل کا پاک اور نیت کا صاف ہونا ضروری ہے اور اس کا بھی خیال رہے کہ جو بات کہی جائے ، اللہ کی رضامندی کے لیے ہو۔ اگر کوئی غرض یا دنیاوی مطلب کا لگاؤ یا بات فضول قسم کی ہو گی تو خواہ کتنے ہی اچھے الفاظ میں کہی جائے گی، تمہارے لیے وبال بن جائے گی، اس لیے ایسے کلام سے خاموشی بہتر ہے۔"
پھر سونے کے متعلق بتایا: "اسی طرح سونے سے متعلق جو کچھ تم نے کہا وہ بھی اصل مقصود نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تم سونے لگو تو تمہارا دل بغض، کینہ اور حسد سے خالی ہو۔ تمہارے دل میں دنیا اور مالِ دنیا کی محبت نہ ہو اور نیند آنے تک اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔"
بہلول کی بات ختم ہوتے ہی حضرت جنید بغدادی نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور ان کے لیے دعا کی۔ شیخ جنید کے مرید یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ جو بات نہ جانتا ہو اسے سیکھنے میں ذرا بھی نہ شرمائے۔

حضرت جنید اور بہلول کے اس واقعے سے سب سے بڑا سبق یہی حاصل ہوتا ہے کہ کچھ نہ جاننے پر بھی دل میں یہ جاننا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اس سے اصلاح اور ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں اور انسان گمراہی میں پھنسا رہ جاتا ہے۔