Thursday, August 6, 2015

The modern dresses overcoming obesity ..


اوسلو: روزمرہ کے معمولات اور بڑھتی مصروفیت نے انسان کو ورزش جیسی صحت مند سرگرمیوں سے دورکردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں موٹاپے کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن اب اس پریشانی کا حل بھی تلاش کرلیا گیا ہے کیونکہ امریکا میں ایک ایسا لباس تیار کیا گیا ہے جس کو زیب تن کرنے سے جسم میں موجود اضافی کیلوریز ختم ہوں گی اور آپ موٹاہے سے نجات حاصل کرکے اسمارٹ نظر آسکیں گے۔
ناروے ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک ایسی بنیان اورجوتے کا اندرونی تلا یا پتاوا تیارکیا ہے جوانسانی جسم کے درجہ حرارت کو کم کردے گا اور دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں انسانی جسم کے میٹا بولک سسٹم کو ہیک کر لیں گی اور کیلوریز کے جلنے کا عمل تیز ہوجائے گا۔ کمپنی نے اس لباس کو ’’تھن آئس‘‘  کا نام دیا ہے جسے پہننے کے بعد چند سیکنڈ تک درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے ٹھنڈک محسوس ہوگی لیکن اس کے بعد جسم کا درجہ حرارت معمول پر آجائے گا اور کیلوریز کے جلنے کا عمل شروع ہوجائے گا تاہم اگر کوئی شخص زیادہ دیر تک ٹھنڈک محسوس کرے تو اسے اسمارٹ فون میں دیئے گئے ایپ سے بھی ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔
لباس تیار کرنے والی کمنپی کے اہم رکن کا کہنا ہے کہ اس لباس کی مدد سے ایک دن میں 500 سے ایک ہزار تک کیلوریز کو جلایا جا سکتا ہے جب کہ اس بنیان یا جوتے کی قیمت صرف 99 ڈالرہے۔ کمپنی کے مطابق لباس میں ’’پیلٹیر کولنگ چپس‘‘ لگائی گئی ہیں جن میں گرمائش کوبڑے پیمانے پرارتکازکرنے والے ری اسپیٹر لگے ہوئے ہیں جب کہ اس میں کمپیکٹ کولنگ سسٹم لگا ہوا ہے جوجسم کے درجہ حرارت کو تیزی سے کم کرتا ہے، پیلٹیر چپس کو بآسانی دوبارہ ری چارج کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی 50 فیصد کیلوریز درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں استعمال ہوتی ہیں لہٰذا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ جسم کی فالتو توانائی کو خرچ کیا جاسکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ لباس کے ساتھ ایسا ایپ بھی تیار کیا گیا ہے کہ جو لباس پہننے والوں کو درجہ حرارت کنٹرول اورکیلوریز مانیٹرنگ کرنے میں مدد دیتا ہے جب کہ اس میں لگا ٹائمر لباس ضرورت کے مطبق ایکٹویٹ کرتا ہے۔

No comments:

Post a Comment