Thursday, February 28, 2013

Bilazaroorat Kutta Palna (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Pehlwan Jo Gusae Par Qaboo Rakhae (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

GunahGaron Ka Anjaam (Quran-e-Hakeem Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Toba-o-Astaghfar Kae Dunyai Faedae (Quran-e-Hakeem Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Surah Ikhlas Ki Fazeelat (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Mayyat Ka Soog, Teen Din (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Qassab Ki Mazdoori (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Yum-e-Arfa (9 zilhaj) Kae Rozae Ki Fazeelat (Hadeeth Ki Rohsni Mane)

Click on image for big view..

Eid-ul-Azha (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Hajj Aur Umra Ki Fazeelat (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Kufar-o-Emaan Mane Farak (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Takabar-o-Barai Ka Gunnah (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Mamooli Gunah (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Hazrat Umar-e-Farooq (RA) (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Nazar-e-Bad (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Neend Sae Bedar Honae Ki 5 Sunaten (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Ashoora Kae Roza Ki Fazeelat (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Aurat Ka Kushboo Laga Kar Bahir Jana (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Ayyat-ul-Kursi Ki Fazeelaat (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Al-Baqra (181) Waseat Ka Badalna

Click on image for big view..

EmmanDar Aur GunnahGar (Quran-e-Hakeem Ki Roshni Mane)

Emmandar Aur GunnahGar

Choor Par Allah Ki Lanat Aur Saza (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Majnoon Ka SehatYaab Hona (Hadeeth Ki Roshni Mane)

Click on image for big view..

Dunya Mane Gunahon Ki Saza (Hadeeth Ki Roshni Mane)


Wednesday, February 27, 2013

Daily Quran and Hadith Rabi Al Thani 18, 1434 February 28, 2013

IN THE NAME OF "ALLAH" 

Assalamu'alaikum Wa Rahmatullah e Wa Barakatuhu,

 

 

 

 

Ashfaq Ahmad Baba Sahba

مسلمانوں میں اتفاق کیسے ہو ؟َ 

اتفاق ہوتا ہے دوسروں کو آرام و سکون پہنچانے سے ۔ 

اگر مسلمان اس بات کا خیال رکھیں کہ دوسروں کو نفع پہنچانا ہے تو سب متفق ہو جائیں گے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 457

Ashfaq Ahmad Zavia 3, Fehm aur Hosh

اگر کوئی شخص مجھے نہ جانے اور نہ پہچانے تو مجھے کوئی افسوس نہیں ، لیکن اگر میں خود کو نہ جانوں اور نہ پہچانوں تو مجھے  بہت افسوس ہوگا ۔اس دنیا میں تقریباً سبھی لوگ اپنے آپ کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے ۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں کی نظر سے پہچانتے اور ان ہی کی نظر سے جانتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی تاریک سے تاریک  تر ہوتی چلی  جا رہی ہے ۔ تم اپنے ارد گرد کس طرح روشنی پھیلا سکتے ہو جب تم اپنے آپ کو ہی نہیں جانتے ۔ 

 

اشفاق احمد زاویہ 3 علم فہم اور ہوش صفحہ291

Tuesday, February 26, 2013

Darwaza Sab Kay Liay Khula Hay...

سیدنا سہیل بن عمرو العامری اپنی زوجہ محترمہ کے ہمراہ ایک مرتبہ سفر پر تھے کہ دوران سفر کچھ ڈاکوؤں نے ان کو آگھیرا۔۔۔ جو کچھ بھی مال واشیاء خوردنی ہمراہ تھیں چھین لیں۔
اب ڈاکو ایک طرف بیٹھ کر جو کچھ ان کے ہاتھ کھانے پینے کی چیزیں لگی تھیں کھانے لگ پڑے۔۔۔ ناگہاں سیدنا سہیل بن عمرو نے دیکھا کہ ڈاکوؤں کا سرغنہ کھانے پینے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شامل نہیں۔
تو انہوں نے اس سردار سے دریافت کیا: ''تم ان کے ساتھ کھانا کیوں نہیں کھا رہے؟''
سردار: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔
سیدنا سہیل کو بہت شاک گزرا کہ ایک ڈاکو روزے سے ہے؟؟؟ اس کو کہنے لگے: ایک طرف تم چوری کرتے ہو اور دوسری طرف روزہ رکھتے ہو؟؟؟!!
سردار بولا: میں نے اپنے اور اللہ کے درمیان ایک ایسا دروازہ رکھ دیا ہے کہ شاید میں اپنی زندگی میں کبھی اس دروازے سے گزر کر اپنے رب کے قریب ہو جاؤں۔
اس کے ایک یا دو سال بعد سیدنا سہیل نے اس سردار کو حج کےدوران اس حالت میں دیکھا کہ وہ کعبۃ اللہ کے پردوں سے چپکا ہوا التجائیں کر رہا تھا۔
اب کے وہ بدل چکا تھا،،، زہد وتقویٰ اور عبادت کا متوالا تھا۔ ڈاکو نہ رہا تھا
سیدنا سہیل نے اس کو دیکھا اور پہچان لیا تو فرمایا: ''میں جان گیا ہوں کہ جس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان ایک ایسا رستہ چھوڑا جس میں سے کسی وقت وہ داخل ہو کر اپنے رب سے قریب ہو جائے،،، وہ یقیناً اس میں سے کبھی ضرور داخل ہو گا۔
ہمیں بھی بارگاہ الٰہی میں حاضر ہونے کو یاد رکھنا چاہیے اور اپنے گناہوں میں اتنا نہیں ڈوب جانا چاہیے کہ اللہ کی طرف جانے والا ہر رستہ بند ہو جائے اور ہم پچھتانے کے علاوہ کچھ نہ کر پائیں.

Tareekh Kay Dareechon Say...

ایک شخص نے امام سے عرض کی کہ میں نے کچھ روپے ایک جگہ چھپا کر رکھ دیئے تھے، اب وہ جگہ مجھے یاد نہیں آتی میں کیا کروں؟ امام نے کہا کے یہ کوئی فقہ کا مسلہ تو ہے نہیں جو تم مجھ سے پوچھنے آئے ہو. جب اس شخص نے زیادہ اسرار کیا تو کہا کے آج تمام رات تم نماز پرہو.
اس نے رات کو نماز پڑھنا شروع ہی کیا تھا کے اسے یاد آ گیا کے اسنے روپے کہاں رکھے تھے.صبح کو وہ ڈورا ہوا آیا اور امام کو تمام واقعہ سنایا. امام نے فرمایا ہاں شیطان کیسے برداشت کرتا کے تم ساری رات نماز پڑھتے رہو، پھر بھی تمہیں چاہیے تھا کے ساری رات نماز پڑھتے رہتے.

[ تاریخ کے دریچوں سے اقتباس: تصنیف حضرت مفتی رفیع عثمانی ]

A good joke about M.Intelligence

ملٹری انٹیلیجنس کے حساس ترین شعبے کیلیئے انٹرویو ہورہے تھے۔ کل تین امیدوار تھے ۔ انٹرویو لینے والے پینل کے سربراہ نے ان کو کہا، کہ جس شعبے کیلیئے ہم نے آپ کا انتخاب کرنا ہے یہ بے حد اہم نوعیت کا حامل ہے، اس میں ہمیں سو فیصد فرض شناس اور ملک و قوم کی خاطر کچھ بھی کر گذرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔ آپ کو ایسے کام بھی کرنے کا حکم دیا جائے گا جو آپ کو پسند نہیں ہوں گے لیکن آپ کی ڈیوٹی کا تقاضا ہوگا کہ آپ وہ کریں ۔ 
تینوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ وہ ملک کی خاطر سب کچھ کرگذرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔
آفیسر نے میز پر ایک پستول رکھا اور پہلے جوان کو کہا کہ کمرہ نمبر ایک میں جاؤ وہاں تمہاری بیوی بیٹھی ہے اس کو گولی مار کے آؤ۔
پہلا جوان اٹھا، کچھ دیر سوچا لیکن پھر بیٹھ گیا۔ کہنے لگا۔ " میں یہ نہیں کرسکتا، میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں "
آفیسر نے اس کو باہر جانے کو کہا اور دوسرے جوان کو بھی یہی کہا کہ دوسرے کمرے میں تمہاری بیوی بیٹھی ہے جاؤ اس کو گولی مار کے آؤ۔
دوسرا جواب اٹھا، پستول ھاتھ میں لیا لیکن دروازے سے واپس آگیا۔" سر ! میں اپنی بیوی کو گولی نہیں مارسکتا، ہمارے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ماں کے بغیر ان کا کیا بنے گا؟ آئی ایم سوری سر! "
آفیسر نے اس کو بھی باہر جانے کا کہہ کر تیسرے آدمی کو کہا وہ دوسرے کمرے میں جائے اور اپنی بیوی کو گولی مار کے آئے۔
تیسرا آدمی جلدی سےاٹھا اور ساتھ والے کمرے میں گیا۔ پہلے تو ایک ہلکی سی کلک ، ڈف کی آواز آئی۔ پھر دو تین مزید ایسی ہی کلک ، ڈف کی آوازوں کی بعد ٹھک ٹھک کی آوازیں آئیں۔ چند منٹ بعد تیسرا امیدوار انٹرویو والے کمرے میں واپس آیا۔ ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔
سر آپ نے جو پستول دیا تھا، اس میں تو نقلی گولیاں تھیں، مجبورا" مجھے کرسی مار مار کر مارنا پڑا۔"

Ashfaq Ahmad Zavia 3 : Shehrag

میرے ایک استاد اونگارتی تھے - مین نے ان سے پوچھا کہ سر " ایمان کیا ہوتا ہے " ؟
انہوں نے جواب دیا کہ ایمان خدا کے کہے پر عمل کرتے جانے اور کوئی سوال نہ کرنے کا نام ہے - یہ ایمان کی ایک ایسی تعریف تھی جو دل کو لگتی تھی
-اٹلی میں ایک بار ہمارے ہوٹل میں آگ لگ گئی اور ایک بچہ تیسری منزل پر رہ گیا 
شعلے بڑے خوفناک قسم کے تھے - اس بچے کا باپ نیچے زمین پر کھڑا بڑا بیقرار اور پریشان تھا - اس لڑکے کو کھڑکی میں دیکھ کر اس کے باپ نے کہا چھلانگ مار بیٹا
-"اس لڑکے نے کہا کہ " بابا کیسے چھلانگ ماروں مجھے تو تم نظر ہی نہیں آ رہے 
(اب وہاں روشنی اس کی آنکھوں کو چندھیا رہی تھی )
اس کے باپ نے کہا کہ تو چاہے جہاں بھی چھلانگ مار ، تیرا باپ تیرے نیچے ہے ، تو مجھے نہیں دیکھ رہا میں تو تمہیں دیکھ رہا ہوں ناں
-"اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ " تم مجھے نہیں دیکھ رہے - میں تو تمہیں دیکھ رہا ہوں نا
اعتماد کی دنیا میں اترنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی شہ رگ کی بیٹھک اور شہ رگ کی ڈرائنگ روم کا کسی نہ کسی طرح آہستگی سے دروازہ کھولیں - اس کی چٹخنی اتاریں اور اس شہ رگ کی بیٹھک میں داخل ہو جائیں جہاں اللہ پہلے سے موجود ہے 
اللہ آپ کو خوش رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین 

اشفاق احمد زاویہ 3 شہ رگ کا ڈرائنگ روم صفحہ 198 

Aik Bazurg Ka Qissa...

ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں ایک دن بازار جا رہا تھا اور میرے ساتھ میری حبشی باندی بھی تھی۔ میں اس کو ایک طرف بٹھا کر آگے چلا گیا اور اس سے کہہ گیا کہ یہیں بیٹھی رہ میں ابھی آتا ہوں۔ جب میں واپس آیا تو وہ اس جگہ نہ ملی۔ مجھے بہت غصہ آیا اور اسی حالت میں گھر گیا جب اس نے مجھے غصہ میں دیکھا تو کہنے لگی میرے آقا غصہ میں جلدی نہ کرو۔ ذرا میری بات سن لو آپ مجھے ایسی جگہ بٹھا کر گئے تھے جہاں کوئی اللہ کا نام لینے والا نہیں تھا۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ جگہ زمین میں نہ دھنس جائے۔ (جس جگہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ ہو اس جگہ جتنی جلدی عذاب آجائے قرین قیاس ہے) اس کی اس بات سے مجھے بڑا تعجب ہوا میں نے اس سے کہا کہ تو آزاد ہے۔ کہنے لگی آقا تم نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا۔ میں نے کہا کیوں؟ کہنے لگی کہ پہلے جب میں باندی تھی تو مجھے دوہرا ثواب ملتا تھا (جیسا کہ حدیث میں ہے کہ جو غلام اللہ کی اطاعت کرے اور اپنے مالک کی خدمت کرے اس کیلئے دوہرا اجر ہے) اب آپ نے آزاد کر کے میرا ایک اجر ضائع کر دیا۔

Saari Sultanat Ki Qeemat...

ایک بزرگ نے اپنے عہد کے بادشاہ سے ایک دن پو چھا کہ اگر تم اتفاقاً شکار کے لیے کہیں جا اور راستہ بھو ل کر تن تنہا رہ جا اور اس وقت تمہیں شدت سے پیاس لگے ۔حتیٰ کہ اس کے باعث تمہیں یوں محسوس ہو کہ اب شا ید جان ہی نکل جائے گی اور اسی مشکل وقت میں کوئی شخص تمہارے پاس ایک پیالہ پانی لائے اور یہ مطالبہ کر ے کہ اگر آدھی سلطنت اس کے نام کر دی جائے تو تمہیں پانی کا پیالہ ملے گا ۔ تو کیا تم آدھی سلطنت دے کر وہ پانی کا پیالہ خرید لو گے یا نہیں ؟
بادشاہ نے کہا کیوں نہیں ۔ میں ضرور خرید لوں گا ۔ بزرگ نے پھر کہا اگر اتفا ق سے تمہارا پیشاب بند ہو جائے اور اس مشکل سے نجا ت کی کوئی صورت بھی نظر نہ آئے۔ ایسے میں ایک شخص آئے اور کہے کہ اپنی آدھی سلطنت مجھے دیدو تو میں تمہیں صحت یاب کر دو ں گا اس صورت میں کیا تم اپنی باقی آدھی سلطنت بھی اسے دے دو گے؟؟
بادشا ہ نے کہا بالکل میں بقیہ نصف سلطنت بھی اس کو دے دو ں گا-----
بزرگ یہ جواب سن کر مسکرائے اور فرمایا ۔ بادشا ہ سلامت آپ کی سلطنت کی یہ قیمت ہے ....ایک پیالہ پانی پینا اور نکلنا...لیکن آپ اس سلطنت کی محبت میں اس قدر غر ق ہیں کہ یا دِالہٰی سے محروم ہو گئے---

Qabar Ka Azab...

تقریباً پچیس سال پہلے کی بات ہے کہ ایک عورت کا پاکستان میں انتقال ہو ا۔ اس کا جنازہ قبر میں لایا گیا۔ جب قبر میں رکھنے لگے تو دیکھا کہ قبر میں سانپ ہے۔ لوگ ڈر گئے ، گھبرا گئے۔ دوسری قبر کھودی گئی، دیکھ لیا کہ قبر صاف ہے۔ جب میت کو رکھنے لگے تو دیکھا کہ اس میں بھی وہی سانپ ہے جو پہلی قبر میں تھا۔ تیسری قبر بنائی ، اس میں دیکھا تو وہی سانپ ہے جو پہلی قبر میں تھا۔ کہنے لگے یہ چھوڑے گا نہیں، اس لئے میت کو رکھنے کیلئے سانپ ایک طرف ہٹ گیا اور میت کو رکھنے کیلئے جگہ دے دی۔ جب میت کو رکھ دیا گیا توسانپ فوراً اٹھا اور کفن ہٹا کر اس میت کی زبان پکڑی۔ سارے مجمع نے دیکھا، سب پریشان ہو گئے۔ اس کا شوہر بھی موجود تھا، اس سے پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے برا بھلا کہا کرتی تھی، میں صبر کرتا تھا۔ کبھی میں نے کوئی بدلہ نہیں لیا، جواب نہیں دیا۔ سب مجمع نے کہا کہ بھائی اس کی خطا کو معاف کر کے دعا ئے مغفرت کرو۔ سب نے دعائے مغفرت کی،شوہر نے بھی اس کی خطا معاف کر کے دعائے مغفرت کی۔ اب جو دیکھتے ہیں تو سانپ نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ عالم قبر کا منظر بندوں کو دکھلا بھی دیتے ہیں تا کہ وہ ڈریں اور معاصی سے بچیں۔ (ملفوظات فقیہہ الامت قسط5/70)

Shok-e-Shahadat...

جنگ بدر کی روانگی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر ترتیب دے رہے تھے اور نوجوان عمیررضی اللہ عنہ بن ابی وقاص ادھر ادھر چھپتے پھر رہے تھے۔ ان کے بڑے بھائی سعد رضی اللہ عنہ بن ابی وقاص نے اس کی وجہ پوچھی تو چھوٹے بھائی نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عمر کے لڑکوں کو لشکر سے نکال دیا ہے۔ ڈرتا ہوں کہ اگر دیکھ لیا تو مجھ کو بھی منع فرما دیں گے۔ مجھے یہ گوارا نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو دشمن کے مقابلے پر میدان میں جائیں اور میں گھر میں آرام کرتا رہوں۔ میری آرزو ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش بدوش کفار سے لڑوں اور ان کی حفاظت کرتا ہوا شہادت کی دولت سے مالا مال ہو جاں۔ پھر حضرت عمیررضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہنچ کر ایڑیاں اوپر اٹھالیں تا کہ قد لمبا نظر آئے، لیکن حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کم عمری کی وجہ سے کہا کہ عمیررضی اللہ عنہ تم واپس جا، اتنا سننا تھا کہ حضرت عمیررضی اللہ عنہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور عرض کیا" یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا مجھے آپ پر جان قربان کرنے کا موقع نہیں ملے گا؟ میری تمنا ہے کہ آپ کی حفاظت کرتا ہوا جام شہادت نوش کروں" ۔ 
حضرت عمیررضی اللہ عنہ کے اس جوش اور شوق شہادت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر گہرا اثر کیا۔ آپ نے فرمایا۔ "اچھا ٹھیک ہے تم ہمارے ساتھ چلو،لا
میں تمہیں تلوار باندھ دیتا ہوں"اتنا سننا تھا کہ حضرت عمیررضی اللہ عنہ خوشی سے اچھلنے لگے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے۔ "اس وقت عمیر رضی اللہ عنہ کا قد اتنا چھوٹا تھا کہ جب تلوار باندھی گئی تو زمین پر لٹکنے لگی۔ میں نے تلوار کے تسمے میں گرہ لگاکر اسے اونچا کیا" میدان کارزار میں پہنچے تو عمیر رضی اللہ عنہ نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ مشرکین کے بڑے بڑے بہادروں سے مقابلہ کرنے سے نہیں کترائے۔ ایک مرتبہ عمرو بن عبدود سامنے آیا تو عمیررضی اللہ عنہ تلوار لے کر اس کی طرف لپکے۔ لیکن کافر نے ایسا کاری ضرب لگائی کہ عمیررضی اللہ عنہ کی رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جان دینے کی خواہش پوری ہو گئی۔
 

Hazrat Malik Bin Deenar (R.A) Ki Toba Ka Zikar...

حضرت مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ان سے ان کی توبہ کا سبب پو چھا گیا تو انہوں نے بتا یا کہ " میں بہت شراب پیتا تھا ۔ میں نے ایک خوبصورت باندی خریدی جو میرے لئے بہت اچھی ثابت ہوئی۔ اس سے میرے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ مجھے اس سے بہت محبت ہو گئی جب وہ پیروں پر چلنے لگی تو اس کی محبت میرے دل میں اور بڑھ گئی وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتی تھی ۔ جب میں شراب پینے لگتا تو وہ آکر شراب گرا دیتی تھی جب اس کی عمر دو سال ہوئی تو اس کا انتقال ہو گیا مجھے اس کی مو ت نے دل کا مریض بنا دیا جب پندرھویں شعبان کی رات تھی اور جمعہ کی رات بھی تھی میں نشے میں چور ہو کر سو گیا اور میںنے عشاء کی نما ز بھی اس دن نہیں پڑھی تھی ۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی ہے اور صور پھونکا جا چکا ہے، قبریں پھٹ رہی ہیں اور حشر قائم ہے اور میں لو گوں کے ساتھ ہوں. اچانک میں نے اپنے پیچھے سرسراہٹ محسوس کی میں نے پیچھے کی طر ف مڑ کر دیکھا تو ایک بہت بڑا کالا اور زرد رنگ کا اژدھا میرے پیچھے منہ کھو لے میری طر ف بڑھ رہا ہے تو میں اس سے ڈر کر بھاگتے ہوئے،ایک صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے ایک بزرگ کے پاس سے گذرا جن کے پا س خوشبو پھیلی ہوئی تھی میں نے انہیں سلا م کیا انہوں نے جوا ب دیا تو میں نے کہا کہ شیخ " شیخ مجھے اس اژدھے سے بچائیے اللہ آپ کو اپنے ہاں پنا ہ دے گا وہ بزرگ روتے ہوئے کہنے لگے کہ میں کمزور ہوں اور یہ مجھ سے بہت طاقتور ہے میں اس پر قادر نہیں ہو سکتا لیکن تم جلد ی سے بھاگ جا شاید اللہ تعالیٰ کسی کو تم سے ملا دے جو تمہیں اس سے بچا لے تو میں سیدھا بھاگنے لگا۔ میں وہاں قیا مت کے مناظر دیکھنے لگاایک اونچائی پر چڑھا تو وہاں زبردست آگ تھی میں نے اس کی ہولناکی کو دیکھا اور میں نے چاہا کہ اژدھے سے بچنے کے لیے اس آگ میں کو د جاں ۔ مگر کسی نے چیخ کر کہا کہ لوٹ آ، تو اس آگ کا اہل نہیں ہے تو میں مطمئن ہو کر واپس آگیا اور اژدھا میری تلاش میں تھا میں اسی بزرگ کے پا س آیا اور انہیں کہا کہ شیخ میں نے آپ سے پناہ مانگی تھی لیکن آپ نے نہیں دی۔ وہ بزرگ پھر معذرت کر کے کہنے لگے کہ میں کمزور آدمی ہوں لیکن اس پہا ڑ پر چڑھ جا وہاں پر مسلمانوں کی امانتیں ہیں۔ ہو سکتا کہ تیری بھی کوئی امانت وہاں موجود ہو جو تیری مدد کر سکے تو میں اس پہا ڑ پر چڑھا جو چاندی سے بنا تھا اس میں جگہ جگہ سوراخ تھے اور غاروں پر پردے پڑے ہوئے تھے اور یہ غار سر خ سونے سے بنے تھے اور جگہ جگہ سوراخ تھے اور غاروں پر پردے پڑے ہو ئے تھے اور جگہ جگہ ان میں یا قوت اور جواہرات جڑے ہوئے تھے اور سب طاقچوں پر ریشم کے پردے پڑے ہوئے تھے جب میں اژدھے سے ڈر کر پہاڑ کی طر ف بھا گا تو کسی فرشتے نے چیخ کر کہا پردے ہٹا دو طاقچے کھول دو، تو پردے اٹھ گئے اور طاق کھول دئیے گئے پھر ان طاقچوں سے چاندی کی رنگت جیسے چہروں والے بچے نکل آئے اور اژدھا بھی میرے قریب ہو گیا ۔اب میں بڑاہی پریشان ہوا تو کسی بچے نے چیخ کر کہا تمہارا ستیاناس! دیکھ نہیں رہے ہو کہ دشمن اس سے کتنا قریب آچکا ہے چلو سب باہر آ پھر بچے فوج در فوج نکلنا شروع ہوگئے پھر میں نے دیکھا کہ میری وہ بچی جو مر چکی تھی وہ بھی نکلی اورمجھے دیکھتے ہی رو کرکہنے لگی واللہ! میرے والد ! پھر وہ تیر کی طر ح کود کر ایک نور کے ہالے میں گئی اور میرے سامنے نمودار ہو گئی اور اپنا بایاں ہا تھ میرے دائیں ہاتھ کی طرف بڑھا کر اسے پکڑ کر کھڑی ہوئی اور دایاں ہا تھ اژدھے کی طر ف بڑھایا تو وہ الٹے پا ں بھا گ گیا ۔ پھر اس نے بٹھایا اور میری گو د میں آبیٹھی اور اپنا سیدھا ہا تھ میری داڑھی میں پھیرتے ہوئے کہنے لگی ابا جان " کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ لو گوں کے دل اللہ کے ذکر کے لیے جھک جا ئیں " (الحدید آیت نمبر 16) اور رونے لگی، تو میں نے کہا کہ میری بچی ۔ کیا تمہیں قرآن معلوم ہے ۔ اس نے کہا کہ ہاں ہم لوگ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ تو میں نے پو چھا کہ پھر اس اژدھے کے بارے میں بتا جومجھے ہلا ک کر نا چا ہتا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ آپ کے برے اعمال تھے جنہیں خود آپ نے طاقتور بنایا تھا ۔ میں نے پو چھا کہ وہ بزرگ کون تھے ۔ اس نے بتایا کہ وہ آپ کے اچھے اعمال تھے جنہیں آپ نے اتنا کمزور کر دیا تھا کہ وہ آپ کے برے اعمال کو دفع نہ کر سکے۔ میں نے پو چھا کہ میری بچی ! تم لو گ اس پہاڑ میں کیا کر تے ہو! اس نے کہا ہم مسلمانوں کے معصو م بچے اسی میں رہتے ہیں اور قیامت ہو نے تک رہیں گے ہم منتظر ہیں کہ تم کب ہمارے پا س آ اور ہم تمہاری شفاعت کریں ۔ 
مالک بن دینار کہتے ہیں کہ میں خوفزدہ حالت میں بیدار ہوا اور میں نے شراب پھینک کر اس کے برتن توڑ دئیے اور اللہ سے تو بہ کر لی یہ میری توبہ کا سبب بنا 

Chand Kay Sath Kai Dard Puranay Niklay...

امجد اسلام امجد

چاند کے ساتھ کئی درد پرانے نکلے
کتنے غم تھے جو ترے غم کے بہانے نکلے

فصلِ گل آئی، پھر اِک بار اسیرانِ وفا
اپنے ہی خون کے دریا میں نہانے نکلے

ہجر کی چوٹ عجب سنگ شکن ہوتی ہے
دل کی بے فیض زمینوں سے خزانے نکلے

عمر گذری ہے شبِ تار میں آنکھیں ملتے
کس افق سے مرا خورشید نہ جانے نکلے

کوئے قاتل میں چلے جیسے شہیدوں کا جلوس
خواب یو ں بھیگتی آنکھوں کو سجانے نکلے

دل نے اِک اینٹ سے تعمیر کیا تاج محل
تونے اک بات کہی، لاکھ فسانے نکلے

دشتِ تنہائی ہجراں میں کھڑا سوچتا ہوں
ہا ئے کیا لوگ مرا ساتھ نبھانے نکلے

میں نے امجد اسے بےواسطہ دیکھا ہی نہیں
وہ تو خوشبو میں بھی آہٹ کے بہانے نکلے

First Time in History - A Good Adv about Men


Kush "Mumtaz Mufti" Ki "Talaash" Say...

ایک دن قدرت اللہ شہاب بڑے اچھے موڈ میں تھے ۔ کہنے لگے مائو واقعی بڑا آدمی تھا۔ ''آپ کو کیسے پتہ ہے؟'' میں نے پوچھا کہنے لگے ایک بار میں ان سے ملا تھا۔ ہوایوں کہ میں چین کے دورے پر گیا 

تو وہاں میں نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ اگر آسانی سے ممکن ہو تو مجھے مائو صاحب سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے ملنے کا کوئی خاص مقصد ہے کیا؟ میں نے کہا نہیں، بالکل نہیں۔ ان سے ملنے کا کوئی خاص مقصد نہیں۔ میں انہیں بڑا آدمی سمجھتا ہوں اور ان کا احترام کرتا ہوں۔ میں انہیں عام مداح کی حیثیت سے ملنا چاہتا ہوں۔ قدرت اللہ شہاب نے کہا کہ انتظامیہ کے رویے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ بات ٹال دی جائے، بہرحال انہوں نے بڑی سوچ بچار کے بعد مجھے مائو سے ملنے کی اجازت دے دی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ وہ نحیف ہوچکے ہیں اور لمبی ملاقات کے متحمل نہیں ہوسکتے، لہٰذا آپ ملاقات کو طول نہ دیں۔ 

قدرت اللہ نے کہا میرا خیال تھا کہ مائو کسی شاہی حویلی میں مقیم ہوں گے لیکن وہ مجھے ایک عام سی آبادی میں لے گئے۔ ایک عام سی گلی کے ایک عام سے کوارٹر میں وہ مقیم تھے۔ مجھ سے مل کر وہ بہت خوش ہوئے۔انہوں نے پہلا سوال مجھ سے یہ کیا کہ کہنے لگے کیا یہ ملاقات کسی خاص مقصد کے لیے ہے ؟ میں نے کہا نہیں! جناب کوئی مقصد نہیں۔ میں تو آپ کا ایک مداح ہوں اور اظہار تعظیم کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ یہ سن کر ان کی خوشی دوچند ہوگئی اور وہ کھل کر باتیں کرنے لگے۔ ان کی باتوں میں بچوں کی سی معصومیت تھی۔ کمیونزم اور خدا باتوں کے دوران میں نے کہا

اگر آپ برانہ مانیں تو میں ایک سوال پوچھوں۔ ''بالکل پوچھیے۔'' انہوں نے کہا ۔ میں نے عرض کی کہ آپ نے جو اپنی تحریک کو God-Lessرکھا، کیا اس کا کوئی خاص مقصد تھا؟ وہ مسکرا کر بولے: یہ سوال ہماری مجلس میں اٹھایا گیا تھا۔ وہاں اختلاف رائے تھا۔ کوئی کسی خدا کے حق میں تھا، کوئی کسی اور کے، اس لیے فیصلہ ہوا کہ اس ایشو کا فیصلہ اگلی میٹنگ میں کیا جائے۔ ہرکوئی اپنا مشورہ لکھ کر لے آئے۔ مائو نے کہا: میں فلسفے کا طالب علم ہوں اور تمام مذاہب کا مطالعہ کرچکا ہوں۔ 

اس لیے میری دانست میں کمیونزم کے پیچھے اسلام کے خدا کے سوا کوئی خداقائم نہیں کیا جاسکتا تھا، لہٰذا میں نے اس موضوع پر ایک مقالہ تیار کرلیا تاکہ اسے اگلی مجلس میں پیش کردوں۔ پتہ نہیں کیسے ہمارے پروگرام کا انگریزوں کو علم ہوگیا۔ انہوں نے ہندوستان کے علمائے دین سے کمیونزم کے خلاف فتوے حاصل کیے۔ یہ فتوے بہت متشدد تھے۔ انہوں نے ان فتووں کو شائع کرکے لاکھوں ہینڈ بل ہوائی جہاز کے ذریعے گرادیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہماری مجلس کی نشست ہوئی تو ہررکن کی میز پر ہینڈ بل پڑا تھا، لہٰذا میرا مقالہ پڑھنا آئوٹ آف کوسچن ہوگیا۔ قدرت اللہ نے مائو سے پوچھا: کیا میں آپ کے اس بیان کا حوالہ دے سکتا ہوں؟ مائو نے سرنفی میں ہلادیا۔ کہنے لگے میری زندگی میں نہیں۔ 

ایک روز میں نے قدرت اللہ سے پوچھا کہ فرض کیجئے مائو کا مشورہ قبول کرلیا جاتا اورکمیونزم اسلام کے خدا کو سرکاری طورپر تسلیم کرلیتا تو نتیجہ کیا ہوتا؟ قدرت اللہ نے جواب دیا کہ کمیونزم کبھی اللہ کو قبول نہ کرتا۔ اگر کرلیتا تو ساتھ ہی اسلام کو قبول کرنا پڑتا اور اگر اسلام کو قبول کرلیتا تو اس کا اپنا تشخص ختم ہوجاتا۔ 

(ممتاز مفتی کی ''تلاش''سے اقتباس )

Peaceful


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة


Click on image for large view...


Sms, Funny Sms, Love Sms, Karo Sms

Apna Sar Oncha Rakho

Salam,

"Apne Jism Ke Waqar Ke Liye Apna Sar Oncha Rakho or

Apni Zaat Ke Waqar K Liye Apni Nazrein r Lehja Hamesha Neecha Rakho."

Tumsay mill kar Tumhain bhulana

Tumse Mil Kar Tumhen Bhulna Mushkil Hai Asaan Nahi
Deewane Dil Ko Samjhana, Mushkil Hai Asaan Nahi

Har Rasta,Har Manzar Ab To,Koi Fasana Lagta Hai
Jab Se Tum Aaye Ho,Sara Sheher Suhana Lagta Hai

Jaate Lumho Ka Ruk Jana Mushkil Hai, Asaan Nahi

Jhukti Aankhein, Rukti Sansein, Dard Adhura Kehti Hain
Dil Ki Puri Batein Aksar Dil Ke ander Rehti Hain

Dil Ki Baat, Zubaan Par Lana Mushkil Hai, Asaan Nahi
Jo Hum Chaahein Wo Tum Chaaho, Phir Bhi Kyun Ye Doori Hai?

Mil Kar Bhi Hum Mil Nahi Paate, Ye Kaisi Majboori Hai?
Rasmoo Ki Deewar Giraana Mushkil Hai, Asaan Nahi…..

Tum tou shayid bhol gaye

Tum tu shayid bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay
Wo bheegi barsat ki shamain
Wo sath bitayi chandni ratain

Tum tou shayid bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay
Wo tera mera hath thamna
Wo mera tujhy dekh k muskurana

Tum tu shaiyd bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay
Wo Tera izhar-e-muhabbat
Wo Mera iqrar-e-rafaqat

Tum tou shayid bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay
Wo pehli ajab mulakat
Wo Khamosh labon ki unkahi bat

Tum tou shayid bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay
Wo achanak tera mujhy chor dena
Wo merey dard ki shidat ka barh jana

Tum tou shayid bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay
Wo tera wapis na any ka ahed
Wo mera tera intezar kerny ka paiman

Tum tou shayid bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay
Wo tera mujhy tanhai ka musafir bana dena
Wo mera vasl ki yadon se muhabbat ker lena

Tum tou shayid bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay
Wo tera inkar muhabbat se kerna
Wo mera talash-e-ishq-e-gumshuda kerna

Tum tou shayid bhol gaye
Magar mujhy aj bhi yad hay

Marriage is like eating

Marriage is like eating in a Resturant.

You order your choice from the menu and then look at the neighbour's table and wish

KASH YEH ORDER KIA HOTA :p

Buut Prasti (Quran-e-Hakeem Ki Roshni Mane)


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

Monday, February 25, 2013

Daily Quran and Hadith Rabi Al Thani 16, 1434 February 26, 2013

IN THE NAME OF "ALLAH" 

Assalamu'alaikum Wa Rahmatullah e Wa Barakatuhu,

 

 

 



Ashfaq Ahmad : Chota Kaam

اٹلی میں مسٹر کلاؤ  بڑا سخت قسم کا یہودی تھا ۔ اس کی کوئی تیرہ چودہ منزلہ عمارت تھی ۔ صبح جب میں یونیورسٹی جاتا تو وہ رات کی بارش کا پانی وائپر سے نکال رہا ہوتا اور فرش پر " ٹاکی " لگا رہا ہوتا تھا ۔ یا سڑک کے کنارے جو پٹڑی ہوتی ہے اسے صاف کر رہا ہوتا ۔ میں اس سے پوچھتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں اتنے بڑے آدمی ہو کر ۔ اس نے کہا  یہ میرا کام ہے ۔ کام بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا ۔  میں نے کہا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس نے کہا کی یہ انبیاء کی صفت ہے جو انبیاء کے دائرے میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ چھوٹے کام ضرور کرے ۔ 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرائیں تھیں اور ہم یہودیوں میں بکریاں چرانا  اور اس سے متعلقہ نیچے لیول کا کام موجود ہے ۔ اس نے کہا کہ آپ کے نبی ﷺ اپنا جوتا خود گانٹھتے تھے ۔ قمیض کا پیوند یا ٹانکا خود لگاتے تھے کپڑے دھو لیتے تھے ، راستے سے " جھاڑ جھنکار " صاف کر دیتے تھے ، تم کرتے ہو ؟ میں کہنے لگا مجھے تو ٹانکا لگانا نہیں آتا مجھے سکھایا  نہیں گیا ۔ 

 

اشفاق احمد زاویہ 2  چھوٹا کام صفحہ 29

 

Sunday, February 24, 2013

Koi Umeed Bar Nahi Aati

کوئی امّید بر نہیں آتی 
کوئی صورت نظر نہیں آتی 
موت کا ایک دن معین ہے 
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟ 
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی 
اب کسی بات پر نہیں آتی 
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد 
پر طبیعت ادھر نہیں آتی 
ہے کچھ ایسی ہی بات ،جو چپ ہوں 
ورنہ ،کیا بات کر نہیں آتی 
کیوں نہ چیخوں؟ کہ یاد کرتے ہیں 
میری آواز ،گر ،نہیں آتی 
داغِ دل گر نظر نہیں آتا 
بو بھی، اے چارہ گر !نہیں آتی 
ہم وہاں ہیں، جہاں سے ہم کو بھی 
کچھ ہماری خبر نہیں آتی 
مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی 
موت آتی ہے، پر ،نہیں آتی 
کعبے کس منہ سے جاؤ گے، غالبؔ ؟
شرم تم کو مگر نہیں آتی

Qaroon aur us ka Maal

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں قارون نام کا ایک بہت بڑا مالدار شخص تھا۔ سورہ قصص میں بیان ہوا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اتنے خزانے عطا کررکھے تھے کہ ان کی کنجیاں اٹھانا ہی آدمیوں کی ایک جماعت کے لیے بہت بھاری بوجھ تھا۔مگر ان نعمتوں پر شکر گزاری کے بجائے فخر وغرور اور نمائش ودکھاوا اس کا معمول تھا۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ یہ مال اسے اس کی علم و صلاحیت کی بنا پر ملا ہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہوں کی پاداش میں اسے اس کے مال سمیت زمین میں دھنسا دیا۔

مال بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ لیکن اس نعمت کی حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کوبطور آزمائش دیا جاتا ہے۔ وہ آزمائش کیا ہے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی خوبی سے اس طرح بیان کیا ہے کہ تمھارے کمزوروں کی وجہ سے تمھاری مدد کی جاتی ہے اور تمھیں رزق دیا جاتا ہے،(بخاری رقم ،2896)۔

اس دنیا میں جس کو جو ملا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی عطاسے ملاہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے ذہین
اورباصلاحیت لوگ جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں اور بے ہنر لوگ دیکھتے ہی دیکھتے مالدار ہوجاتے ہیں۔ لوگ اسے قسمت کہتے ہیں، درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی تقسیم ہے۔ یہ تقسیم ہمیشہ غیر متوازی کی جاتی ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پیسے والے لوگ مال پاکر قارون بنتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق یہ جان لیتے ہیں کہ یہ مال اصل میں انہیں ضعیفوں کی وجہ سے ملا ہے۔

جو لوگ قارون بنتے ہیں ان کا انجام بھی قارون جیسا ہوگا۔ لیکن جو لوگ اسے عطیہ الہی سمجھ کر غریبوں پر خرچ کرتے ہیں، انہیں اللہ کے نبی کے ساتھ بسادیا جائے گا---

Mother : Secret to Happiness

ماں خدا کی  نعمت ہے اور اس کے پیار کا انداز سب سے الگ اور نرالا ہوتا ہے ۔ بچپن میں ایک بار بادوباراں کا سخت طوفان تھا اور جب اس میں بجلی شدت کے ساتھ کڑکی تو میں خوفزدہ ہو گیا ۔ ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا ۔ میری ماں نے میرے اوپر کمبل ڈالا اور مجھے گود میں بٹھا لیا تو محسوس ہوا جیسے میں امان میں آگیا ہوں ۔  

میں نے کہا اماں ! اتنی بارش کیوں ہو رہی ہے ؟ اس نے کہا بیٹا ! پودے پیاسے ہیں ۔ اللہ نے انہیں پانی پلانا ہے اور اسی بندوبست کے تحت بارش ہو رہی ہے ۔  میں نے کہا ٹھیک ہے پانی تو پلانا ہے مگر یہ بجلی بار بار کیوں چمکتی ہے ؟ وہ کہنے لگیں روشنی کر کے پودوں کو پانی پلایا جائے گا ۔ اندھیرے میں تو کسی کی منہ میں کسی کی ناک میں پانی چلا جائے گا ۔ اس لیے بجلی کی کڑک چمک ضروری ہے ۔ 

میں ماں کے سینے کے ساتھ لگ کر سو گیا ۔ پھر مجھے پتہ نہیں چلا کہ بجلی کس قدر چمکتی رہی یا نہیں ۔ یہ ایک بالکل چھوٹا سا واقعہ ہے اور اس کے اندر پوری دنیا پوشیدہ ہے۔ یہ ماں کا فعل تھا جو ایک چھوٹے سے بچے کے لیے ، جو خوفزدہ ہو گیا ہے اسے خوف سے بچانے کے لیے پودوں کو پانی پلانے کی مثال دیتی ہے ۔ یہ اس کی ایک اپروچ تھی ۔ گو وہ کوئی پڑھی لکھی عورت نہیں تھی ۔ دولت مند ، بہت عالم فاضل ، کچھ بھی ایسا نہیں تھا ۔ لیکن وہ ایک ماں تھی ۔

اشفاق احمد زاویہ 2 خوشی کا راز  صفحہ 32 

Keechar – Javed Chaudhry

javed Chaudhry

Daily Quran and Hadith Rabi Al Thani 15, 1434 February 25, 2013

IN THE NAME OF "ALLAH" 

Assalamu'alaikum Wa Rahmatullah e Wa Barakatuhu,

 

 

 

 

 

 


علوم جدیدہ اور مذہب۔۔۔قسط دوم مرتب: سید آصف جلال

علوم جدیدہ اور مذہب۔۔۔

قسط دوم مرتب: سید آصف جلال : ڈاکٹر شفلر shefflerkکہتا ہے کہ روح مادہ ہی کی ایک قوت کا نام ہے جو اعصاب سے پیدا ہوتی ہے،ویرشو کا قول ہےکہ"روح ایک قسم کی میکانکل حرکت ہے"۔ بوشنرBchnerکہتا ہے کہ "انسان صرف مادہ کا ایک نتیجہ ہے"۔ دویمواریمون Sumobois Reymondکہتا ہے کہ "تمام اعصاب میں ایک کہربائی تموج پایا جاتا ہے، اس جس کو فکر کہتے ہیں، وہ مادہ اسی ہی ایک...


 مزید  پڑھیں 

Funny : Mamooli Teacher Ki Daastan

" ایک مرتبہ میں لاہور میں ایک معمولی سا ٹیچر بن گیا لیکن گاؤں میں مشہور ہو گیا کہ پروفیسر ہو گیا ہوں چنانچہ سفارش کا تانتا لگ گیا. سب سے پہلے ایک پرانے ہم جماعت کامران صاحب آ گئے. بولے"منشی فاضل کا امتحان دیا ہے. دوسرا پرچہ بہت نکمّا ہوا ہے. پروفیسر قاضی صاحب ممتحن ہیں. انہیں کہہ کے پاس کرا دو."
ایک روایت کے مطابق پروفیسر قاضی صاحب تک ان کی بیوی بھی مشکل سے ہی پہنچتی تھی. میری رسائی سے تو وہ سراسر باہر تھے، لیکن کامران صاحب کو ٹالنے اور کسی حد تک اپنی پرعفیسری کا رعب جمانے کے لئے کہہ دیا.
"ارے قاضی-وہ تو ہمارا لنگوٹیا ہے. تمھیں فرسٹ ڈویژن دلوا دیں گے."
اس کے بعد کامران سے سرخروئیکی خاطر دُعائیں تو بہت مانگیں لیکن وہ فیل ہو گیا اور جب کامران نے نتیجہ سنا تو فوراً لکھا."اب گاؤں کبھی نا آنا ورنہ مار ڈالوں گا." دو ہی دن گزرے تھے کہ میرے ہمسائے مبّشر صاحب اپنے بیٹے کی سفارش لے کر آ دھمکے.بولے." کاکے جمیل نے میٹرک کا امتحان دیا ہے. ریاضی کا پرچہ تھوڑا گڑبڑ ہو گیا ہے. محسن صاحب کے پاس پرچے ہیں، انہیں اشارہ کر دیجئے گا."
اشارے کے لفظ سے ظاہر تھا کہ مبّشر صاحب کے ذہن میں میرے رسوخ کا بلندتصور تھا چنانچہ اس وقت تو کہہ دیا کہ فکر نہ کریں مبّشر صاحب محسن صاحب کا کان پکڑ کے لڑکے کو پاس کرا دوں گا. لیکن حقیقت یہ تھی کہ محسن صاحب کے کان میری گرفت سے یکسر باہر تھے. بہر حال مجھے معلوم تھا کہ لڑکا فیل ہی ہو گا. چنانچہ اپنی بریت اور کار گزاری دکھانے کے لئے ایک ترکیب نکالی…. ایک دن مبّشر صاحب اور ان کے بیٹے جمیل کو بلا بھیجا اور کسی قدر جلال میں آ کر مبّشر صاحب سے خطاب کیا.
"واہ مبّشر صاحب واہ. آپ نے ہماری خوب کرکری کرا دی، ہم محسن صاحب کے پاس گئے تو انہوں نے پرچہ نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ تم خود ہی انصاف سے جو چاہو نمبر دے دو. اور پرچہ دیکھتا ہوں تو اوٹ پٹانگ لکھا ہے. اکبر کے بیٹے کا نام دین الٰہی تھا اور پرویز لاٹھیں بیچا کرتا تھا، جانگیر کبوتر پالتا تھا، اس کے علاوہ ہجے غلط، املاء خراب. خدا جانے یہ لڑکا پورا سال کیا کرتا رہا ہے؟"
اس پر ہماری کارگزاری سے مطمئن ہو کر مبّشر صاحب نے اپنا ڈنڈا اور جمیل کے رسید کرتے ہوئے فرمایا:
"کم بخت تاش کھیلتا رہا ہے اور کیا کرتا رہا ہے؟"
لیکن کچھ دن بعد جب نتیجہ نکلا تو جمیل پاس ہو گیا اور پھر باپ کا ڈنڈا لے کر میری تلاش میں پھرنے لگا….

اشفاق احمد زاویہ 2 تسلیم و رضا کے بندے صفحہ 268

اپنے دکھ اور کوتاہیاں دور کرنے کے لیے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم تسلیم کرنے والوں میں ماننے والوں میں شامل ہو جائیں ۔ اور جس طرح خدا وند تعالیٰ کہتا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ ۔ میرا بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ابو دین میں پورے کے پورے کیسے داخل ہو جائیں  تو میں اس کو کہتا ہوں کہ جس طرح بورڈنگ کارڈ لے کر ایئرپورٹ میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر جہاز میں بیٹھ کر ہم بے فکر ہو جاتے ہیں کہ یہ درست سمت میں ہی جائے گا ۔ اور ہمیں اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ  جہاز کس طرف کو اڑ رہا ہے ۔ کون اڑا رہا ہے بلکہ آپ آرام سے سیٹ پر بیٹھ جاتے ہیں آپ کو کوئی فکر فاقہ نہیں ہوتا  ہے ۔  آپ کا اپنے دین کا بورڈنگ کارڈ اپنے یقین کا بورڈنگ کارڈ اپنے پاس ہونا چاہیے تو پھر ہی خوشیوں میں اور آسانیوں میں رہیں گے وگرنہ ہم دکھوں اور کشمکش کے اندر رہیں گے ۔ اور تسلیم نہ کرنے والا شخص نہ تو روحانیت میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی سائنس میں داخل ہو سکتا ہے ۔ 

جو چاند کی سطح پر اترے تھے  جب انہوں نے زمین کے حکم کے مطابق ورما چلایا تو اس نے کہا ورما ایک حد سے نیچے نہیں جا رہا  ، جگہ پتھریلی ہے ۔ لیکن  نیچے سے حکم اوپر گیا کہ نہیں تمہیں ورما اسی جگہ چلانا ہے ۔ وہ ماننے والوں میں سے تھا اور اس نے بات کو تسلیم کرتے ہوئے اسی جگہ ورما چلایا ۔ اور بالآخر وہ گوہرِ مقصود ہاتھ آگیا  جس کی انہیں تلاش تھی ۔
 خواتین و حضرات !  ماننے والا شخص زمین سے اٹھ کر افلاک تک پہنچ جاتا ہے اور وہ براق پر سوار ہو کر جوتوں سمیت اوپر پہنچ جاتا ہے ۔ اور جو نہ ماننے والا ہوتا ہے وہ بے چارہ ہمارے ساتھ یہیں گھومتا پھرتا رہ جاتا ہے ۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ زمین میں کششِ ثقل ہے تو پھر ہم آگے چلتے ہیں اور ہمارا اگلا سفر شروع ہوتا ہے جب کہ نہ ماننے سے مشکل پڑتی ہے ۔ 

اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے  آمین ۔ 

 

اشفاق احمد زاویہ 2  تسلیم و رضا کے بندے صفحہ 268

Saturday, February 23, 2013

Words of Wisdom for you all my friends (Excellent)

A Lot Of Trouble Would Disappear
If Only People Would Learn To Talk To One Another
Instead Of Talking About One Another .....

When People Walk Away From You, Let Them Go.
Your Destiny Is Never Tied To Anyone Who Leaves You.
It Doesn't Mean They Are Bad People.
It Just Means That Their Part In Your Story Is Over.. !

People nowadays are like Bluetooth,
If you stay close they stay connected,
If you go away they find new devices...

Human Life Would Be Perfect If...
Anger Had A STOP Button
Mistakes Had A REWIND Button
Hard Times Had A FORWARD Button
And Good Times A PAUSE Button !!

Always Welcome Your Problems,
Because Problems Gives You Dual Advice,
Firstly, You Can Know How To Solve Them,
Secondly, You Learn How To Avoid Them In Future,
Have Faith In GOD And Yourself…!

Reflection Cannot Be Seen In Boiling Water,
In The Same Way,
Truth Cannot Be Seen In A State Of Anger !
Analyze Before You Finalize.

Success Is Like A Beautiful Lover
It Will Leave Us At Anytime,
But Failure Is Like A Mother
It Will Teach Us Some Important Lessons Of Life!
A Good Heart Can Win Many Relationships,
A Good Nature Can Win Many Good Hearts!
A TOUCH Could HEAL A Wound
An Eye Could SPEAK Volumes
A SMILE Can Confirm I AM THERE !!
The Bird Asked The Bumblebee:
"You Work So Hard To Make The Honey And Humans Just Take It Away,
Doesn't It Make You Feel Bad?"
"No," Said The Bee, "Because They Will Never
Take From Me The Art Of Making It."
 

Tuesday, February 19, 2013

اشفاق احمد حیرت کدہ صفحہ 58

ثروت : حضور ! خاکم بدہن  ۔ ۔ ۔ ۔ ظالم کی رسی کیوں دراز ہے اس کو غفورالرحیم  سے  ظلم کرنے کی استعداد اور مہلت اس قدر کیوں ملتی ہے ؟  

شاہ :  اس کی دو وجوہات ہیں ثروت بیگ ۔ ایک وجہ تو یہ کہ اس پر لوٹ آنے کی مہلت خدائے بزرگ و برتر کم نہیں کرنا چاہتا ۔  کبھی تم نے اس ماں کو دیکھا ہے ثروت بیگ جو بچے کو مکتب میں لاتی ہے ۔ بچہ بھاگتا ہے ، بدکتا ہے ، چوری نکل جاتا ہے مکتب سے ۔ ماں لالچ دیتی ہے کبھی سکے کا ۔ کبھی کھانے پینے کی چیزوں کا ۔  کبھی کبھی مکتب میں لانے کے لیے ظلم کا بھی لالچ دینا پڑتا ہے ۔ کیونکہ دنیاوی آدمی کو بس اسی چیز کا شوق ہوتا ہے ۔ 

ثروت : اور دوسری وجہ شاہ علم و دین ۔ 

شاہ :  دوسری وجہ اسباب کی ہے ظالم آدمی در اصل ایک آلہ ہے اسباب کے ہاتھ میں ۔ وہ اللہ کے بندوں کو آزمانے کا سبب بنتا ہے ثروت بیگ ۔ اس کے بغیر صابر آدمی کی آزمائش کیوں کر ہوتی ۔ 

 

اشفاق احمد  حیرت کدہ  صفحہ 58

Aaj Ki Baat


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة



Daily Quran and Hadith


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة





Saturday, February 16, 2013

Daily Quran And Hadith


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة





اشفاق احمد زاویہ 2 چھوٹا کام صفحہ 26

رزق کا بندوبست کسی نہ کسی طور اللہ تعالیٰ کرتا ہے ، لیکن میری پسند کے رزق کا بندوبست نہیں کرتا ۔ میں چاہتا ہوں کہ میری پسند کے رزق کا انتظام ہونا چاہیے ۔ ہم اللہ کے لاڈلے تو ہیں پر اتنے بھی نہیں جتنا  ہم خود کو سمجھتے ہیں ۔
ہمارے بابا جی کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی آپ سے سردیوں میں رضائی مانگے تو اس کے لیے رضائی کا بندوبست ضرور کریں ۔  کیونکہ اسے ضرورت ہوگی ۔ لیکن اگر وہ یہ شرط عائد کرے کہ مجھے میری پسند کی رضائی دو ، تو پھر اس کو باہر نکال دو ۔ کیونکہ اس طرح اس کی ضرورت مختلف قسم کی ہو جائے گی ۔

اشفاق احمد زاویہ  2  چھوٹا کام  صفحہ 26

اشفاق احمد زاویہ 3 لچھے والا صفحہ 31

جب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو ایک ادھیڑ عمر کا شخص جس کا رنگ گندمی اور ماتھے پر بڑھاپے اور پریشانی سے لکیریں پڑہی ہوئیں تھیں ۔ وہ اسکول میں لچھے بیچنے آیا کرتا تھا ۔ اس کے بنائے ہوئے رنگ برنگ  کےلچھے ہم سب کے من پسند تھے ۔ وہ ہمیں ان چینی کے بنے فومی لچھوں کے طوطے ، بطخیں اور طرح طرح کے جانور بھی بنا کر دیا کرتا تھا ۔ ہم اس سے آنے آنے کے لچھے کھاتے اور وہ بڑے ہی پیار سے ہم سے پیش آتا تھا ۔  مجھے اب بھی اس کی بات یاد ہے اور جب ایک سپر پاور نے افغانستان پر حملہ کیا تو بڑی شدت سے یاد آئی حالانکہ میں اسے کب کا بھول چکا تھا ۔ ہم سب بچوں سے وہ لچھے والا کہنے لگا ۔  
" کاکا تسیں وڈے ہو کے کیہہ بنو گے  ۔ "
ہم سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ " ہم بڑے افسر بنیں گے " ۔
کسی بچے نے کہا میں " فوجی بنوں گا " ۔  
 وہ ہم سے پیار کرتے ہوئے بولا " پتر جو وی بنو ، بندے مارنے والے نہ بننا ۔  بندے مارن نالوں بہتر اے تسی لچھے ویچن لگ پینا  پر بندے مارن والے کدی نہ بننا " ۔

اشفاق احمد زاویہ 3  لچھے والا  صفحہ 31

اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 73

ساری عمر دوہری عبادت کی جیون ! قلب سے بھی اور ہاتھ سے بھی ۔ اسی لیے تو کہتا ہوں عبادت کا حکم ہر وقت ہے ۔ پانچ وقت تو حاضری لگانی ہوتی ہے  باقی عبادت ، تو سارا دن چلتی ہے ۔
جیون : لیکن چاچا  ہمہ وقت کیسے ہو سکتا ہے اللہ کا ذکر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
جب تو ہل چلاتا ہے ، عبادت کرتا ہے ۔ جب میں صراحی ، گلدان ، تھال میں گل بوٹے بناتا ہوں،عبادت ہی تو ہوتی ہے ۔
ہاتھوں سے رزق حلال کھانے اور کھلانے والا اور کیا کرتا ہے جیون بیٹا ! جب میری جہاں  آرا کشیدہ کرتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔  روٹی بناتی ہے وہ بھی تو عبادت ہی  کرتی ہے ۔

اشفاق احمد  من چلے کا سودا صفحہ 73

اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 119

مرد کے اندر عورت کی ترغیب فطری طور پر موجود ہے ۔  یہ ترغیب فطری اور گہری ہے ۔ جب یہ ترغیب نیام سے نکل کر تلوار بنتی ہے  تو زندگی کی وادی میں ہزاروں عورتیں بے دریغ کچل دی جاتی ہیں ۔ اسی لیے چوری چھپے کی آشنائی کا حکم نہیں ہے ۔  یہ صرف عورت کا تحفظ ہے کہ اس ترغیب کے ہاتھوں وہ روندی نہ جائے ۔  نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے ، عورت کی حفاظت کے لیے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حیا سے ، پردے سے  ، خدا کو تو کوئی فائدہ نہیں
پہنچتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرد بھی بیزار ہوتا ہے حیا دار عورت سے ، لیکن عورت محفوظ رہتی ہے ۔  وہ قدم قدم پر مرد کے اندر چھپی ہوئی  ازلی ترغیب سے بچی رہتی ہے ۔

 اشفاق احمد من چلے کا سودا صفحہ 119

اشفاق احمد لچھے والا زاویہ3 صفحہ 29

آپ کبھی فجر کی نماز کے بعد کسی ان پڑھ عام سے کپڑے پہنے کسی دیہاتی ، جسے وضو اور غسل کے فرائض سے بھی شاید پوری طرح واقفیت نہ ہو، وہ جب نماز کے بعد قرآن پاک پڑھنے کے لیے کھولے گا تو قرآن پاک کا غلاف کھولنے سے پہلے دو بار اسے آنکھوں سے لگائے گا اور چومے گا ۔ اس کی اس پاک کتاب  سے محبت اور عقیدت دیدنی ہوتی ہے ۔ وہ قرآن پاک میں لکھی عربی کی آیات کی معانی سے واقف نہیں ہوتا ۔ لیکن وہ جس محبت سے اسے پڑھ رہا ہوتا ہے وہ قابلِ رشک ہوتا ہے ۔

اشفاق احمد لچھے والا  زاویہ3 صفحہ 29

اشفاق احمد زاویہ 3 دو بول محبت کے صفحہ 52

اگر کسی لڑکی کی شادی زبردستی  اس کی مرضی کے بغیر ہو رہی ہے ، اور وہ رونا چاہتی ہے ، کسی مامے ، چاچے، دوست ، استاد ، پروفیسر کو بتانا چاہتی ہے کہ اسے یہ دکھ ہے لیکن وہ سارے کہتے  ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے ، دفع ہوجا ۔
اب وہ بیچاری خود کشی نہیں کرے گی تو اور کیا کرے گی ۔ جب زندگی اور آواز کا پنجرہ اتنا تنگ کر دیا جاتا ہے کہ وہ اس میں محبوس ہو جاتا ہے اور اس کا سانس گھٹنے لگتا ہے ، تو پھر وہ مرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ۔

اشفاق احمد زاویہ  3  دو بول محبت کے  صفحہ 52

Monday, February 11, 2013

Daily Quran And Hadith


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة