Showing posts with label Cases. Show all posts
Showing posts with label Cases. Show all posts

Monday, September 7, 2015

Muslims in the UK ..

Hatred of Muslims in Britain

Hate crimes against Muslims in the UK increased by 75%

Hate crimes against Muslims in the UK increased by 75%
لندن: گزشتہ برس کے مقابلے میں برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔
برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم ’ ٹیل ماما‘ کے مطابق گزشتہ 12 ماہ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف 816 نفرت انگیز واقعات رونما ہوئے جب کہ اس سے ایک برس قبل یہ تعداد 478 نوٹ کی گئی تھی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق مسلمان مخالف واقعات میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ آزادہ ذرائع کے مطابق ان کا تناسب دوگنا ہوچکا ہے۔ مسلمانوں پر حملے اور نفرت انگیز رویوں میں سب سے ذیادہ اضافہ میرٹن میں ہوا جہاں نفرت انگیز حملوں میں 262 فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ رچمنڈ اپون تھیمز میں 9 واقعات ہوئے جب کہ گزشتہ برس صرف ایک واقعہ ہی رپورٹ ہوا تھا۔
’ ٹیل ماما‘ کے مطابق سرڈھانپنے اور حجاب والی خواتین سے برا سلوک، تشدد اور تضحیک کے واقعات میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم نے برطانوی خبر رساں ویب سائٹ کو بتایا کہ حملہ آور چہرہ ڈھانپنے والی خواتین کو بطورِ خاص نشانہ بناتے ہیں۔ ان بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد برطانوی پولیس نے بھی اس طرح کے جرائم کے شکار افراد کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اسے رپورٹ کرائیں تاکہ ملوث افراد کو گرفتار کیا جاسکے۔
دیگر تنظیموں کے مطابق مسلمانوں کے مذہبی تہواروں پر ان جرائم میں شدت آجاتی ہے اور پولیس کو چاہیے کہ وہ ان مواقع پر ذیادہ چوکنا ہوکر گشت کرے تاکہ مذہب پر مبنی جرائم کم کیے جاسکیں۔ لندن پولیس سے وابستہ میک چشتی کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز جرائم کسی بھی صورت قبول نہیں اور تمام الزامات کی تفتیش کرکے ذمے داروں کو گرفتار کیا جائے گا اور اس ضمن میں لندن میں 900 پولیس افسران کو ایسے واقعات کی روک تھام کا خصوصی ٹاسک سونپا گیا ہے۔
لندن پولیس نے کہا کہ مسلمان خواتین اور مرد اپنے خلاف ہونے والے جرم کی رپورٹ ضرور درج کرائیں۔

Muslims

UK(London)

Sunday, September 6, 2015

Child sexual abuse ..

Child sexual abuse

British educational institutions increased incidence of child sexual abuse

لندن: برطانوی اسکولوں میں گزشتہ 3 برسوں میں 600 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی جس میں بچے ہی ملوث پائے گئے ہیں۔
برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسکولوں میں جنسی بنیادوں کے 5500 واقعات اور 4000 حملے بھی ہوئے ہیں جن میں نازیبا ٹیکسٹ بھیجنے، اپنی اور دوسروں کی اخلاق باختہ تصاویر ایم ایم ایس کرنے اور فحش باتوں کی تشہیر شامل ہیں۔ رپورٹ کرنے والے 1,500 متاثرین بچوں کی عمر 13 یا اس سے بھی کم رپورٹ کی گئی ہے۔
برطانیہ میں بچوں کے تحفظ کی تنظیم این ایس پی سی سی کے مطابق بچے انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھ کر حقیقی زندگی میں ان پر عمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ بہت خوفناک رحجان ہے۔ تھوڑے بڑے بچے انٹرنیٹ پر موجود ویڈیوز دیکھ کر خود ایسے کام کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے جب کہ بہت ہی کم عمری اور پرائمری کلاسوں کے طالب علم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خود انہیں اس کا شعور بھی نہیں ہوتا۔
برطانوی خبررساں ایجنسی کو ایک طالبہ نے بتایا کہ اسے اسکول کے اسٹور روم میں اس وقت ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جب اس کی عمر صرف 15 سال تھی اور ایک اور لڑکے نے بتایا کہ اسکول خالی ہونے پر اس کے 3 دوستوں نے اس پر جنسی حملہ کیا تھا۔