Monday, August 24, 2015

Chaudhry Nisar says ..

Chaudhry Nisar

All the terror network had collapsed, Chaudhry Nisar

All the terror network had collapsed,Chaudhry Nisar
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ قومی لائحہ عمل کے آغاز سے اب تک بہت کامیابیاں حاصل کیں اور اس وقت ملک میں دہشت گردی کے تمام نیٹ ورک کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر پرویز رشید کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ گزشتہ 40 سے 50 سال میں قومی سلامتی اور اندرونی پالیسی میں جو بگاڑ پیدا ہوا اس کو درست کرنے کے لیے سالوں کا عرصہ درکار تھا لیکن قوم، میڈیا اور سول ملٹری کے گٹھ جوڑ سے نیشنل ایکشن پلان پر گزشتہ 8 ماہ سے درست طریقے سے کام ہوا جس کے باعث ملک کے تمام بڑے شہروں میں سیکیورٹی صورتحال پہلے سے کئی گنا بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ایک مفصل پالیسی فریم ورک ہے اور قومی لائحہ عمل کے آغاز سے اب تک بہت کامیابیاں حاصل کیں،  ہم نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن پرتوجہ دی اور اس وقت ملک میں دہشت گردی کے تمام نیٹ ورک ختم ہوچکے ہیں جب کہ دہشت گردی میں مالی معاونت کے خاتمے کو بھی تیز کیا جارہا ہے۔
چوہدری نثار نے کہا کہ کسی بھی ملک میں سیکیورٹی پر سیاست نہیں ہوتی اور نیشنل ایکشن پلان پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی ہے اس پر سیاست نہ کی جائے جب کہ حکومت اور وزارت داخلہ پر تنقید کرنا سب کا حق ہے لیکن صورتحال میں جو بہتری آئی اسے متنازعہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ملٹری آپریشن سے ملک میں دہشت گردی ختم نہیں ہوتی، 2009 میں 2 ملٹری آپریشن ہوئے لیکن حکومتی نا اہلی کے باعث دہشت گردی میں اضافہ ہوا جب کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد انٹیلی جنس کے بنیاد پر 5 ہزار 900 آپریشن کیے گئے، 62 ہزار کارروائیاں اور 68 ہزار گرفتاریاں ہوئی، ایک ہزار 114 دہشت گرد مارے گئے جب کہ 885 دہشتگرد گرفتار ہوئے اور کالعدم تنظیموں کے 7900 لوگ فورٹھ شیدول میں ڈالے گئے تاہم تحقیق اور تفتیش کے بعد بے گناہوں کو چھوڑ دیا جا تا ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات اس وقت بہت مثالی ہیں اور بلاوجہ سول ملٹری تعلقات پر تنقید کرنا غلط ہے اس لیے اس پر رائے زنی نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 13 سال سے دہشت گردی کی جنگ بغیر کسی منصوبہ بندی کے جاری تھی جب کہ دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے کسی ادارے کے پاس کسی قسم کی کوئی معلومات ہی نہیں تھی لیکن اب تمام ڈیٹا ریکارڈ میں موجود ہے۔
چوہدری نثار نے کہا کہ کراچی میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے اور یہ جاری رہے گی، ہم کراچی کی صورتحال کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے جب کہ رینجرز کی سپورٹ، صوبائی حکومت اور ایم کیو ایم کو راضی رکھنا وزارت داخلہ کا کام تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی مذاکراتی عمل شروع ہوچکا ہے وہاں پر 500 سے زائد فراری ہتھیار ڈال چکے ہیں وہاں بہت بڑا بریک تھرو ہونے والا ہے جب کہ صوبے کے حالات کی بہتری میں کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اگلے 6 ماہ ہماری توجہ فرقہ واریت کے خاتمے پر توجہ ہوگی اور یہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا کہ ایک دوسرے کو کافر کہا جائے جب کہ پاکستان کے مدرسے اسلام کے لیے کام کررہے ہیں اور محب وطن ہے لہٰذا مدرسوں کو بدنام نہ کیا جائے۔

Chaudhry Nisar

No comments:

Post a Comment