Sunday, January 15, 2012

Mumtaz Mufti Kay Safarnamay...


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

‎" ماحول کے تاثرات مختلف ہوتے ہیں ، یوں سمجھ لیں کہ مکّہ معظمہ قانون ہی قانون ہے ، اور مدینہ منورہ رحمت ہی رحمت ہے " شہاب (قدرت الله شہاب ) نے وضاحت کی ، مگر میں پھر بھی نہیں سمجھا اس پر شہاب نے مجھے یہ واقعہ سنایا -مکہ معظمہ میں بچوں کو حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں - لیکن مسجد نبوی صلے الله تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلم میں بچے کھیلیں یا شور مچائیں انھیں کوئی نہیں روکتا ........ پاکستان کا ایک فوجی افسر عمرہ کرنے کے لئے ایک مہینے کی چھٹی پر یہاں آیا تھا - مسجد نبوی صلے الله تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلم میں اس نے دیکھا کہ بچے شور مچا رہے ہیں ، اسے بیحد غصّہ آیا کہنے لگا " یہ سراسر بے ادبی ہے " اس نے بچوں کو ڈانٹا - اس پر اس کے ساتھی نے جو کہ مدینہ منورہ کی ڈسپنسری کا ڈاکٹر تھا ، نے اس کو منع کیا کہ بچوں کو نہ ڈانٹے .... افسر نظم و نسق کا متوالہ تھا ، اس نے ڈاکٹر کی ان سنی کر دی - رات کو اس موضوع پر دونوں کی بحث چھڑ گئی - ڈاکٹر نے کہا حضور صلے الله تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلم پسند نہیں کرتے کہ بچوں کو ڈانٹا جائے- 


اسی رات افسر نے خواب دیکھا - حضور صلے الله تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلم خود تشریف لائے خشمگیں لہجے میں فرمایا " اگر آپ مسجد میں بچوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے تو مدینے سے چلے جائیے" اگلے روز پاکستان کے فوجی ہیڈ کوارٹر سے ایک تار موصول ہوا - جس میں اس افسر کی چھٹی منسوخ کر دی گئی تھی اور اسے فوراً ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا

ممتاز مفتی کے سفر نامے لبیک سے اقتباس

No comments:

Post a Comment