Monday, June 24, 2013

Zahri Halat....


میں دوست کے ساتھ چڑیا گھر گیا تو بندر کے پنجرے میں دیکھا کہ وہ اپنی بندریا سے چمٹا محبت کی اعلیٰ تفسیر بنا بیٹھا تھا۔ شیر کے پنجرے کے پاس سے گزر ہوا تو معاملہ الٹ تھا، اپنی شیرنی سے منہ دوسری طرف کیئے خاموش بیٹھا تھا۔ میں نے دوست سے پوچھا یہ کیسی سرد مہری ہے؟ دوست نے کہا؛ اپنی خالی بوتل شیرنی کو مارو۔میں نے بوتل پھینکی تو شیر اچھل کر درمیان میں آگیا۔ شیرنی کے دفاع میں اسکی دھاڑتی ہوئی آواز کسی تفسیر کی طالب نا تھی۔ میں نے ایک اور بوتل بندریا کو بھی جا کر ماری، بندریا کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کیلئے بندر اچھل کر کونے میں جا بیٹھا۔ میرے دوست نے کہا لوگ بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں؛ ان کی ظاہری حالت پر نا جانا، ان کے پیاروں پر بن پڑے تو اپنی جان لڑا دیا کرتے ہیں، مگر ان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔

No comments:

Post a Comment