Saturday, April 21, 2012

Ashfaq Ahmad In Zavia Program Baba Sahba


السلام عليكم و رحمة الله و بركاتة

سر الیگزینڈر فلیمنگ صرف ایک عام سائنسدان اور سائنسی علوم کے استاد ہی نہیں تھے بلکہ اپنے وقت کے مہا دون اور عالم با عمل تھے -
انھوں نے پینسلین جیسے شے ایجاد کر کے انسانیت پر بہت بڑا احسان کیا تھا - اور لاکھوں کروڑوں ، اربوں انسانوں کو موت کے منہ سے بچایا تھا - 

دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد فاتح اور مفتوح فوجوں کے سارے زخمی ایک اسی دریافت کے سہارے زندہ تھے - اور اسی کی آس پر صحت کامل کی امید لیے وقت شفا کے منتظر تھے - 

میں نے کہا ، سر ! آپ کو یقین ہے کہ پنسلیں کی دریافت عطیہ خدا وندی تھی - اور اس میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا - آپ کی کوئی محنت نہیں تھی - آپ کی کوئی ریسرچ نہیں تھی ؟ 

کہنے لگے ، " میں اسے دنیا تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ضرور تھا - ایک آلہ ضرور تھا - لیکن میں اس کا موجد یا مخترع نہیں تھا - صرف اس کا انکشاف کرنے والا تھا - اور یہ انکشاف بھی میری محنت کا نتیجہ نہیں تھا - بلکہ خدا وند کا کرم اور اس کی عنایت تھی - 

اصل میں جتنے بھی انکشافات اور دریافتیں ہوتی ہیں وہ خدا کے حکم سے اور خدا کے فضل سے ہوتی ہیں - " 

میں نے کہا سر کیا آپ اپنے بیان کی وضاحت کریں گے کہ جتنے بھی انکشافات اور دریافتیں ہوتی ہیں وہ خدا کے حکم سے اور خدا کے فضل سے ہوتی ہیں ؟ 

کہنے لگے ، " خدا علیم مطلق ہے اور اس کو کائنات کے اندر اور کائنات کی باہر کی ہر شے کا علم ہے - وہ اپنی مرضی سے ، اپنے حساب سے ، اور اپنے ارادے سے انسانوں پر علم منکشف کرتا رہتا ہے - علم اسی کا عطا کردہ ہوتا ہے نام بندے کا ہو جاتا ہے - " 

میں نے کہا اس کا ثبوت ؟ 

فرمانے لگے " اگر انسان اپنی محنت ، کوشش ، محنت ، جدوجہد اور لگن کے ساتھ کسی نا دریافت کو دریافت کرنے پر تل جائے تو وہ اس وقت تک دریافت نہیں ہو سکتی ، جب تک کہ اس دریافت کے " اترنے " کا حکم نا ہو جائے - "

وہ بولے میں نے اس اصول کو لندن کے ایک مقامی اسکول میں بچوں کی آسانی کے لیے یوں سمجھایا تھا کہ خدا کے آستانے پر ایک لمبی سلاخ کے ساتھ علم کی بیشمار پوٹلیاں لٹک رہی ہیں 
وہ جب چاہتا ہے اور جب مناسب خیال فرماتا ہے ، قینچی سے ایک پوٹلی کا دھاگا کاٹ کر حکم دیتا ہے کہ 

" سنبھالو ! علم آرہا ہے.......... " 

ہم سائنسدان جو دنیا کی ساری لیبارٹریوں میں عرصے سے جھولیاں پھیلا کر اس علم کی آرزو میں سر گردان ہوتے ہیں ، ان میں سے کسی ایک کی جھولی میں یہ پوٹلی گر جاتی ہے اور وہ خوش نصیب ترین انسان گردانہ جاتا ہے - " 

پھر ذرا رک کر بولے " ایک بیماری ہے ، عام لوگ اس سے اتنے آگاہ نہیں ہیں ، لیکن ڈاکٹر ، سائنسدان ، ماہرین طب اس سے حد درجہ خائف ہیں اور اس کے علاج کی تلاش میں سر گردان ہیں - 

دنیا کے ہر بڑے ملک کی لیبارٹری اور سائنس کے ہر بڑے معاملے پر اس کی ریسرچ ہو رہی ہے - لاکھوں پاؤنڈ ہر مہینے اس ریسرچ پر لگ رہے ہیں اور ہزاروں ماہرین اس پر ریسرچ کا ڈیٹا اکٹھا کر کے نوٹس ملا رہے ہیں لیکن اس بیماری کا کوئی سراغ ہی نہیں ملتا - " 

میں نے کہا ! " سر کونسی وہ ایسی موذی بیماری ہے جس کا بھید اب تک نہیں ملا ؟ " 
کہنے لگے، " اس کو کینسر کہتے ہیں - اور یہ بیماری بڑی تیزی کے ساتھ دنیا کے ہر خطے میں پھیل رہی ہے - دنیا بھر کے ماہرین طب اور بڑے بڑے سائنسدان دن رات اس کے علاج کے دریافت میں لگے ہیں اور ابھی تک خالی ہاتھ بیٹھے ہیں - " 

" اور ایک وقت آئیگا اس موذی مرض کا علاج ایک پوٹلی میں بندھا بندھا یا پیرا شوٹ میں رکھا ہوا آئیگا - اور اس وقت جو طلبگار قسمت والا ہوگا اسے حاصل کر لیگا - 
میرا اندازہ ہے ١٩٧٠ ، ١٩٨٠ تک اس کا علاج دریافت ہو جائیگا - 

از اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ ٣٢٤

No comments:

Post a Comment