Monday, October 22, 2012

Ashfaq Ahmad In Baba Sahba

ایک روز بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں گدائی کر کے کچھ رسد لے کر ڈیرے پر جاؤنگا - اور لنگر میں شامل کرونگا تاکہ پرانی رسم کا اعادہ ہو - 
گھر کے پھاٹک سے باہر نکل کر جب میں نے ادھر ادھر دیکھا تو میرا حوصلہ نہ پڑا - 

میں اتنا بڑا آدمی ایک معزز اور مشہور ادیب کس طرح کسی کے گھر کی گھنٹی بجا کر یہ کہ سکتا ہوں کہ میں مانگنے آیا ہوں - میں چپ چاپ واپس آ کر اپنی کرسی پر بیٹھ کر اخبار پڑھنے لگا -

 

لیکن چونکہ یہ خیال میرے ذہن میں جاگزیں ہو چکا تھا اس لیے میں پھر اپنی جگہ سے اٹھا اور اپنی بیوی کے پاس جا کر کہا ! 

" مجھے الله کے نام پر کچھ خیرات دو گی " 

وہ میری بات نہ سمجھی اور حیرانی سے میرا چہرہ تکنے لگی - 

میں نے کہا مجھے الله کے نام پر کچھ آٹا خیرات دو - 

اس نے تعجب سے پوچھا تو میں نے کہا بابا جی کے لنگر میں ڈالنا ہے - 
کہنے لگی ٹھہرئیے میں کوئی مضبوط سا شاپر تلاش کرتی ہوں - میں نے کہا شاپر نہیں میری جھولی میں ڈال دو - کیونکہ ایسے ہی مانگا جاتا ہے - وہ پھر نہیں سمجھی - 

جب میں نے ضد کی تو وہ آٹے کا ایک بڑا پیالہ بھر لائی میں نے اپنے کرتے کی جھولی اس کے آگے کر دی - 

اس نے آٹا میری جھولی میں ڈالتے ہوئے سر جھکا لیا اور آبدیدہ ہو گئی - پھر وہ مجھ سے نظریں ملائے بغیر واپس باورچی خانے میں چلی گئی -

وہاں سے دو بڑے بینگن اور چھوٹا سا کدو لے کر کر آئے اور انھیں آٹے پر رکھ دیا - 

ہم دونوں کے شرمندہ شرمندہ اور غمناک چہروں کو ہمارا چھوٹا بیٹا دیکھ رہا تھا - 
اس کے ہاتھ میں اس کا محبوب لیمن ڈراپ تھا - اور وہ اس سے چپکا ہوا کاغذ اتار رہا تھا جب اس نے باپ کو جھولی پھیلائے دیکھا تو اس نے اپنا لیمن ڈراپ میری جھولی میں ڈال دیا - 

ہم دونوں میاں بیوی کے ایک ساتھ چیخ نکل گئی - 

جب کوئی گدائے کرتا ہے تو بھکاری اور داتا کے درمیان ایک نہ سنائی دینے والی چیخ ضرور ابھرتی ہے - 

بھکاری اپنی دریوزہ گری پر پشیمان ہوتا ہے اور داتا اپنی بے حقیقتی اور نا شدنی پر شرمندہ ہوتا ہے - 

میں کھلی جھولی میں آٹا ڈالے آھستہ آھستہ کار چلاتا ڈیرے پر پہنچ گیا 
بابا جی کھڑے تھے میری جھولی دیکھ کر زور کا نعرہ لگایا 

" رحمتاں برکتاں والے آ گئے - نور والے آگئے - منگتے آگئے منگتے آگئے - " 

از اشفاق احمد بابا صاحبا

No comments:

Post a Comment