Wednesday, October 31, 2012

Ghazi Ilm-ud-Deen Shaheed

کچھ لوگ چھوٹی سی زندگی میں اتنا بڑا کام کر جاتے ہیں کہ ان کا نام تا قیامت زندہ رہتا ہے انہیں میں سے ایک غازی علم الدین شہید تھے۔ غازی علم الدین شہید 3دسمبر 1908ءکو محلہ چابک سواراں لاہور میں پیدا ہوئے ۔والد کا نام میا ں طالع مند تھا جو نجاری یعنی لکڑی کا کام کرتے تھے غازی علم الدین نے نجاری کا فن اپنے والد سے اور بڑے بھائی میاں محمدا لدین سے سیکھا ۔پھر 1928ءمیں کوہاٹ چلے گئے اور والد کے ساتھ بنوں بازار کوہاٹ میں فرنیچر کا کام کرنے لگے۔

غازی علم الدین نے مشہور بدنام زمانہ کتاب "رنگیلا رسول "کے ناشر راج پال کو ٹھکانے لگایا اور تختہ دار پر چڑھ گئے ۔اس واقعہ کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے ہندووں کی شدھی اور سنگھٹن کی تحریکوں کو یاد رکھنا ضروری ہے جو 1920ءکی دہائی میں شروع کی گئی تھیں ۔اس سلسلہ میں ہندووں نے دلآزار لڑیچر شائع کرنا شروع کیا ۔ مہاشہ کرشن مدیر "پر تاپ "لاہور نے ایک کتاب "رنگیلا رسول "کے نام سے لکھی ۔مصنف نے مسلمانوں کے غم و غصہ سے بچنے کے لئے اپنی بجائے پروفیسر چمپوپتی لال ایم اے کا فرضی نام بطور مصنف لکھ دیا ۔تاہم اس کتاب پر راج پال ناشر ہسپتال روڈ لاہور کا نام درست اور واضح لکھا ہوا تھا۔مسلمانوں نے اس کتاب کو تلف کرنے کی درخواست کی ۔اس کے انکار پر مسلمانوں نے دفعہ 153الف کے تحت فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا ۔مجسٹریٹ نے ناشر کو چھ ماہ قید کی سزا دی۔مگر اس نے ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے اس کو رہا کردیا۔

اس سلسلے میں مسلمانوں نے جلسے کئے۔متعدد جلوس نکالے لیکن حکومت نے دفعہ 144نافذ کر کے مسلمان لیڈروں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔فرنگی حکومت کے انصاف سے مایوس ہونے کے بعدمسلمانوں نے اپنی قوت بازو سے کام لینے کا مصمم ارادہ کیا ۔چنانچہ راج پال کو ٹھکانے لگانے کے لئے سب سے پہلے ایک نوجوان غازی عبد العزیز کوہاٹ سے لاہور آیا۔پوچھتا پوچھتا ناشر کی دوکان پر جا پہنچا ۔اتفاق سے اس وقت دوکان پر راج پال نہیں بیٹھاتھا بلکہ اس کی جگہ اس کا ایک دوست جتندر موجود تھا۔

عبد العزیز نے ایک ہی وار میں اس کا کام تما م کردیا ۔انگریزی حکومت نے کچھ قانونی تقاضوں اور مصلحتوں کے پیش نظر عبدالعزیز کو چودہ سال کی سزا دی ۔راج پال اپنے آپ کو ہروقت خطرے میں محسوس کرتا ۔اس کی دراخوست پر دو ہندو سپاہی اور ایک سکھ حوالداراس کی حفاظت کے لئے متعین کئے گئے ۔راج پال لاہور چھوڑ کر ہردوا 'کاشی اور متھرا چلاگیا لیکن دوچار ماہ بعد واپس آکر اپنا کاروبار دوبارہ شروع کردیا۔

چنانچہ غازی علم الدین 6اپریل 1929ءکو لاہور آئے اور ایک بجے دوپہر راج پال کی دوکان واقع ہسپتال روڈ انار کلی نزد مزار قطب الدین ایبک پہنچ کر آپ نے راج پال کو للکارا اور کہا "اپنے جرم کی معافی مانگ لو اور دلآزار کتاب کو تلف کردواور آئندہ اس قسم کی حرکتوں سے باز آجاو۔"راج پال اس انتباہ کوگیڈر بھبکی سمجھ کر خاموش رہا ۔اس پر غازی علم الدین نے ایسا بھر پور وار کیا کہ وہ اف تک نہ کرسکا۔اس وقت دوکان میں دو ملازم بھگت رام اور کدار ناتھ بھی موجود تھے ۔

کدار ناتھ نے انار کلی پولیس سٹیشن میں قتل کی اطلاع درج کروائی ۔پولیس نے لاش پر قبضہ کرکے کدار ناتھ 'بھگت رام اور دیگر گواہوں کے بیانات لئے ۔چونکہ ملزم اقبالی تھا اس لئے مقدمے کی تفتیش اور چالان میں نہ توکوئی دقت پیش آئی نہ کوئی رکاوٹ ہوئی ۔اس واقعہ کے بعد شہر میں خاصاخوف وہراس پھیل گیا تھا ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے دفعہ 144نافذ کر کے ہندو مسلم کشیدگی پرقابو پانے کی کوشش کی۔تاہم ہندووں نے راج پال کی ارتھی کا جلوس نکالا اور پورے احترام کے ساتھ رام باغ نزد بادامی باغ نذر آتش کر کے اس کی راکھ کو دریائے راوی میں بہا دیا ۔مقدمہ مسٹر لوئیس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوا۔انہوں نے ملزم پر فرد جرم عائد کر کے اس کا بیان لیا اور بغیر صفائی کے مقدمہ سیشن کے سپرد کردیا۔

مسٹر نیپ سیشن جج تھے ۔مسٹر سلیم بارایٹ لاءنے غازی علم الدین کے حق میں معقو ل دلائل پیش کئے مگر عدالت نے دفعہ 302کا فرد جرم عائد کرکے مورخہ 22مئی 1929ءکو پھانسی کی سزا کا حکم سنایا ۔ جن کے وکیل صفائی بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح تھے لیکن انگریز سرکار کی پریوی کونسل نے ان کی اپیل خارج کر دی جس پر 31اکتوبر 1929ء کے دن حرمت رسول
ۖ پر قربان ہونے والے غازی علم دین کو میانوالی جیل میں تختہ دا ر پر لٹکا دیا گیا ۔ پھانسی پانے سے قبل شمع رسالت ۖ کے پروانے غازی علم دین شہید نے پھانسی گھاٹ پر موجود انگریز و ہندو افسران کو مخاطب کر کے کہا " کہ میں نے حرمت رسول ۖ کیلئے راجپال کو قتل کیا ہے ۔ تم گواہ رہو کہ میں محبت رسول ۖ میں کلمہ شہادت پڑھتا ہوا راہ حق میں جان قربان کر رہا ہوں "۔غازی علم دین شہید نے شہادت گاہ پر کھڑے ہو کر وہاں موجود سب حاضرین کو گواہ بنا کر تین مرتبہ بلند آواز میں کلمہ شہادت پڑھا اور پھر پھانسی کے رسے کو چوم کر گلے میں ڈال لیا۔ پھانسی کے بعد غازی علم دین شہید کی نمازجنازہ میانوالی جیل میں ادا کی گئی اور اسے وہیں دفن کر دیا گیا۔ اس پر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے جس پر مسلمانوں کا ایک وفد مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور سر محمد شفیع کی قیادت میں وائسرائے ہند سے ملا اور غازی علم دین کا جسد خاکی لاہور لے جانے کا مطالبہ کیا جس پر وائسرائے نے چند شرائط پر یہ درخواست منظور کرلی اور اس طرح 8نومبر 1929ء کو غازی علم دین شہید کا جسد خاکی میانوالی سے ریل کے ذریعے لاہور لایاگیاجہاں ان کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ غازی علم دین شہید کی 4مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ پہلی مرتبہ بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا دیدار علی شاہ ، دوسری بار مسجد وزیر خان کے خطیب مولانا شمس الدین ، تیسری مرتبہ حضرت مولانا سید احمد شاہ اور چوتھی مرتبہ حضرت پیر سید جماعت علی شاہ نے غازی علم دین شہید کی نماز جنازہ ادا کروائی ۔ بعد ازاں آپ کو میانی صاحب کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے غاز ی علم دین کا جسد خاکی لحد میں اتار ا۔ انہوں نے شہید کا ماتھا چوم کر فرمایا کہ "ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا، اسی تے گلاں کردے رہ گئے"۔ شہید ناموس رسالت ۖ
کی برسی کے موقع پر دو روزہ عرس کا بھی انعقاد کیا جائے گا

No comments:

Post a Comment